ہونٹوں کی ہنسی درد کا درماں تو نہیں ہے

ہونٹوں کی ہنسی درد کا درماں تو نہیں ہے
میری ہی طرح تو بھی پریشاں تو نہیں ہے


میں تجھ کو کبھی خود سے الگ کر نہیں سکتا
تو ضد ہے مری تو کوئی ارماں تو نہیں ہے


کیا جانئے کیوں دھوپ نکل آئی اچانک
جو سر پہ ہے وہ ابر گریزاں تو نہیں ہے


اے مجھ پہ امڈ آئے ہوئے چاند بتا دے
یہ چاندنی اک رات کی مہماں تو نہیں ہے


اس بار تجھے سینت کے سینے میں رکھوں گا
تو دل ہے تو اشک سر مژگاں تو نہیں ہے


ہر عشق سلیقے سے کیا ہم نے بھی خالدؔ
مجنوں کی طرح چاک گریباں تو نہیں ہے