خاک میری بکھر گئی ہے کیا
خاک میری بکھر گئی ہے کیا
آسماں تک نظر گئی ہے کیا
کس لیے تم اداس پھرتے ہو
دل سے دنیا اتر گئی ہے کیا
اپنی مرضی سے در بدر ہوں میں
تو بتا اپنے گھر گئی ہے کیا
اے صبا جس طرف ہے پھول مرا
یہ بتا تو ادھر گئی ہے کیا
یہ جو دن میں بدل گئی ہے رات
زلف تیری سنور گئی ہے کیا
تیرے ماتھے پہ کیوں پسینہ ہے
خواب میں تو بھی ڈر گئی ہے کیا
اس طرح کیوں اداس بیٹھے ہو
کوئی دل میں اتر گئی ہے کیا
ساری دنیا الٹ گئی میری
تو ادھر سے ادھر گئی ہے کیا
یہ جو منزل ہے پاؤں میں خالدؔ
جستجو کام کر گئی ہے کیا