لہو میں جتنی جولانی رہے گی
لہو میں جتنی جولانی رہے گی
سفر میں اتنی آسانی رہے گی
محبت سے گلے ملتے ہیں یارو
کہاں نفرت پریشانی رہے گی
تجھے دیکھے جو مدت ہو گئی ہے
نگاہوں میں تو ویرانی رہے گی
اے میرے چاند گہنائے گا تو بھی
کہاں تک تجھ میں تابانی رہے گی