اپنی غزل کے طائر خوں ناب کے لیے
اپنی غزل کے طائر خوں ناب کے لیے
کچھ زخم لے کے آیا ہوں احباب کے لئے
پھر یوں ہوا کہ داغ ہی ہاتھوں میں رہ گئے
رستہ بنا رہا تھا میں مہتاب کے لیے
مدت سے پھر رہا ہوں میں بازار شوق میں
اک لفظ کی تلاش ہے آداب کے لئے
خوشبو شباب حسن یہ دھوکہ ہی اک سہی
کچھ تو بہانہ چاہئے زہراب کے لیے
اتنی تو آگ دل میں ہی جلتی ہے رات دن
جس درجہ آگ چاہئے زر ناب کے لئے
انسانیت کے نام بھی کچھ کر کے دیکھیے
ہر کام لازمی نہیں سرخاب کے لئے
خالدؔ ہرا بھرا وہ رہے بھی تو کس لئے
ہر پھول جس شجر کا ہو گرداب کے لئے