سانحہ
یہ یادیں یہ باتیں یہ آدھی سی ملاقاتیں بہت روحانیت ہے ان میں ایک معصومیت ہے ان میں یہ لمحۂ الفت آیا ہے بعد مدت بس دعا ہے یہی یہ کھو نا جائے کہیں رہے سدا سدا یہ وفا یہ ادا یہ صدا
یہ یادیں یہ باتیں یہ آدھی سی ملاقاتیں بہت روحانیت ہے ان میں ایک معصومیت ہے ان میں یہ لمحۂ الفت آیا ہے بعد مدت بس دعا ہے یہی یہ کھو نا جائے کہیں رہے سدا سدا یہ وفا یہ ادا یہ صدا
بہت خوبصورت خوش نما ہنستے مسکراتے گاتے گنگناتے وہ دھڑکتے لمحے جیتے جاگتے لمحے یک بیک ایک دن ہو گئے روبرو پرانی کتاب کے پنے میں دبے ہوئے لیکن یہ کیا تازہ گلابوں سے بھی زیادہ مہک رہے تھے یہ ان سوکھے ہوئے پھولوں سے آ رہی تھی گزرے ہوئے پلوں کی تازہ خوشبو
شب طویل تھی پر کٹ گئی نامراد وقت تھوڑی سی مروت کر گیا جینے کے لئے چند حسین لمحے تاریکیوں میں منور کر گیا
قلم بھی تڑپ اٹھا قرطاس پہ لکھنے سے پہلے لہولہان حرف ہو گئے برف اف سرد احساس امیدوں کو مار نہ ڈالے کہیں گھائل پروں کے ساتھ یہ حسرتیں اڑنے سے باز نہیں آتیں اور آخر کار لڑکھڑاتی پرواز جبین فلک چوم لیتی ہے
ہم سب کے ساتھ جڑا ہے ایک کاش زندگی مکمل ہو کر بھی کیوں چھوڑتی چلتی ہے ادھورے پن کے نشاں کوئی کمی کوئی حسرت نا مکمل سی کاش کا کلمہ پڑھتی
سنتے تھے گناہوں کی انتہا زمیں پر حد سے جب بڑھ جائے گی تو قیامت برپا ہوگی برسے گی آگ آئے گا سیلاب قدرت کا قہر نازل ہوگا اللہ رحم کرے آج اس ہولناک دور سے گزر رہے ہیں ہم جہاں زمیں کے ہر خطے میں ٹکڑوں ٹکڑوں میں زندگی ہو رہی ہے تباہ کہیں جنگ کہیں وحشت کہیں بھوک کہیں دہشت گونجتے ...
بار بار روندا گیا احساس کچلا گیا جذبہ توڑا گیا یقین مٹایا گیا نشاں دفنایا گیا زندہ اجاڑا گیا بے وجہ پھر بھی نہ مرا نہ ٹوٹا نہ چھوٹا دلوں کی نرم نازک مٹی میں پھلتا پھولتا رہا محبت کا ننھا بیج
حسرتوں کی پیاس لے جائے گی کہاں کہاں صحراؤں میں سمندر میں نیلے کھلے امبر میں چھان ماری خاک زمیں سے آسماں تک جسم سے جاں تک یہی تلاش قائم رکھے گی وجود دنیا کا تا قیامت سفر حیات کا حیوان سے انساں تک
دو پایہ کوئی نہیں سوچتا اک دن فنا ہو جائے گا ہمارا وجود زندگی ہے تو جینا ہے بلا وجہ بے سبب کتنی حیران پریشان کتنی بے نام بے جان کبھی لگتی ہے جیسے ہوتے ہیں چوپایہ ہم بھی کہیں دو پایہ تو نہیں انسان کی شکل میں
پتے سارے کے سارے ہرے بھرے تھے کبھی دھیرے دھیرے ایک ایک پتہ پیلا ہو کر دم توڑ رہا ہے جڑا تھا جن سے اب ان کا ساتھ چھوڑ رہا ہے قدرت کا قانون یہی ہے تبھی تو پھوٹیں گی نئی نئی کونپلیں