جلسہ
شامیانوں کے اندر مسکراہٹیں ہر ایک چیز پہ چسپاں ہیں رنج و غم کا کہیں بھی نشاں نہیں خوبصورت لباسوں میں لپٹے ہوئے خاص و عام لوگ خوشی کا ملمع چڑھائے خوب بڑھا رہے ہیں جلسے کی رونق
شامیانوں کے اندر مسکراہٹیں ہر ایک چیز پہ چسپاں ہیں رنج و غم کا کہیں بھی نشاں نہیں خوبصورت لباسوں میں لپٹے ہوئے خاص و عام لوگ خوشی کا ملمع چڑھائے خوب بڑھا رہے ہیں جلسے کی رونق
فراق کے لمحے دم توڑتے آغوش میں یادیں سانس لیتیں احساسوں میں اور مسلسل دھڑکتا رہتا ہے کوئی سینے میں
خوشبو کبھی جب بکھرے رجنی گندھا مسکراتے ہیں پیمانوں سے چھلک کر نگاہوں میں جھلملاتے ہیں گزرتے لمحات یادوں کی کترنیں جوڑ کر کولاژ بنا لیتے ہیں خوب ہے احساس کی کاریگری چلتی آتی ہے انہی در و دیواروں سے گفتگو کرنے کشش ہے کوئی یا کوئی ناطہ ہے صدیوں کا جس سے گلے لگ کر دم بھر کو خود کو ...
چلنا ہے تب تک پیروں کی تھکن ٹوٹ کر چور نہ کر دے پیروں تلے روند کر اپنے ہی چھالوں کو دھول نہ کر دے کڑی دھوپ جھلسا بھی دے اگر کالی دھند بکھرا بھی دے اگر اکھڑتی سانس جب تک چھوڑ نہ دے ساتھ آخری آس جب تک چھوڑ نہ دے ہاتھ چلنا ہے تب تک جب تک بچا ہے جسم کی مٹی میں ایک بھی بیج جو بن سکتا ہے ...
رات تک خیالوں میں یادوں کا قافلہ کبھی جگاتا رہا کبھی تھپکی دے کر سلاتا رہا آخر دھڑکنوں کا ساز خوابیدہ آغوش میں ڈوبتا چلا گیا
زندگی عجب ہے پھر بھی اپنے پاس موت کو پھٹکنے نہیں دیتی جب کہ ہاتھ محروم ہیں روزگار سے پیٹ دانے سے اور سر آسرے سے سخت جان زندگی ہزار بار مر کر بھی زندہ رہتی ہے امید کے اجالوں میں اونچی اڑانوں میں اپنے آپ سے جھنجھتی ہوئی کہ حقیقت میں جسے کہتے ہیں زندگی ہمیں بھی حاصل ہو گئی کبھی تو بس ...
بے قصور آہیں کر رہیں سوال معصومیت کیوں ہوئی ہلاک تلخ ہے جواب کون ہے ذمے دار بدلتے حالات مذہبی دیوار قانونی لوچ یا ہماری سوچ
روشنی ہے وہ وہ دھوپ ہے کھلتی ہوئی جلتی ہوئی اک لوہے اپنی روشنی سے خود راہ میں اجالا کرتی آندھیوں سے اندھیروں سے اسے خوف نہیں کانپتی لو کو تھرتھرا کے سنبھلنے کا ہنر آتا ہے اس لو نے ہر سمت مشعل بن کر دکھایا ہے اپنا جوہر کتنے کمال کر کے دیکھنا اک دن یہ بد گمان دنیا مانے گی اس کی ...
ایک عمر دراز چہرہ پیس میکر سے دھڑکتا ہوا دل آنکھ کی دھندلاتی روشنی زندگی کی چمک پورے کنبے کا جغرافیہ اپنے ارد گرد سمیٹے زندگی کی شام کو یادوں میں لپیٹے عمر کی لکیروں میں تجربے کی چمک کسی فرشتے کی طرح ایک بزرگ کا سایہ گھر میں ٹہلتا ہے اپنے دھیمے قدموں سے چہل قدمی کرتے ہوئے سب کی ...
کیسی محبت ہے لکھا قسمت میں جس کے تمام عمر کا ہجر کم کیسے ہو لگن جب دل ہی خود پرستار ہو جائے اور یہ دل کی لگی پرستش ہو جائے