حسرتیں خدیجہ خان 07 ستمبر 2020 شیئر کریں قلم بھی تڑپ اٹھا قرطاس پہ لکھنے سے پہلے لہولہان حرف ہو گئے برف اف سرد احساس امیدوں کو مار نہ ڈالے کہیں گھائل پروں کے ساتھ یہ حسرتیں اڑنے سے باز نہیں آتیں اور آخر کار لڑکھڑاتی پرواز جبین فلک چوم لیتی ہے