تلاش

حسرتوں کی پیاس
لے جائے گی کہاں کہاں
صحراؤں میں
سمندر میں
نیلے کھلے امبر میں
چھان ماری خاک
زمیں سے آسماں تک
جسم سے جاں تک
یہی تلاش
قائم رکھے گی
وجود دنیا کا
تا قیامت
سفر حیات کا
حیوان سے انساں تک