تلاش خدیجہ خان 07 ستمبر 2020 شیئر کریں حسرتوں کی پیاس لے جائے گی کہاں کہاں صحراؤں میں سمندر میں نیلے کھلے امبر میں چھان ماری خاک زمیں سے آسماں تک جسم سے جاں تک یہی تلاش قائم رکھے گی وجود دنیا کا تا قیامت سفر حیات کا حیوان سے انساں تک