کاش

ہم سب کے ساتھ
جڑا ہے ایک کاش
زندگی
مکمل ہو کر بھی
کیوں چھوڑتی چلتی ہے
ادھورے پن کے نشاں
کوئی کمی
کوئی حسرت
نا مکمل سی
کاش
کا کلمہ پڑھتی