خدیجہ خان کی نظم

    کام والی

    جنگلی پھول کی طرح قدرتی حسن لیے جیسے ادھ پکے پھل کو کھانے بے چین ہو جائے کوئی صرف ایک سوتی ساری کا لباس سندر سڈول بدن جیون کی گھر گرہستی میں رکھا تھا قدم ایک دوشیزہ نے جب وقت کی سلوٹوں نے بنا دیا بد رنگ نشان ایک صحت مند جسم کو کر دیا کمزور سالانہ پیداوار کی طرح بچوں کی پیدائش ...

    مزید پڑھیے

    راز

    زمیں سے فلک تک آخری جھلک تک مراسم دلوں کے بے نام منزلوں کے خلاؤں سے گفتگو اپنی ہی جستجو چاہتوں کے سلسلے صدیوں کے مرحلے اور چھور سے نہیں کوئی قافلے ہی قافلے انسانی جسموں کے تہذیبی قسموں کے ہر جسم ایک طلسم ہے ہر طلسم ایک دل ہے اس دل کے راز سمجھنا باقی ہیں ابھی

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 4