خدیجہ خان کی نظم

    زہر

    چھپک کی آواز کے ساتھ ذہن کے پانیوں میں گرتا ہے لفظوں کا پتھر بنتے بگڑتے احساسوں کے گھیرے مٹ جائیں گے بنا کوئی نشان چھوڑے مگر یہ زہر آلودہ پتھر پڑے رہیں گے یوں ہی ذہن کی تلہٹیوں میں رینگتے اپنی ہی طرح زہر آلودہ

    مزید پڑھیے

    صفر

    عمر کی ڈھلان پر تھک ہار کر بیٹھی ہے زندگی حساب کرتی ہوئی آخر میں اندر باہر بس ایک صفر ہی بچا رہ گیا

    مزید پڑھیے

    پونجی

    دولت لالچ ہوس جھوٹ فریب نفرت یہ اب عیب نہیں انسانی فطرت میں گھلے ملے رنگ ہیں رونق ان کی ہے لبھاتی دیکھنے والے کو چونکاتی حیا ان پر اب ہمیں بہت کم ہے آتی سفر حیات کا مگر ایک ہی جگہ پہنچائے گا سب کو مٹی کے تن کو بچا کے رکھے گا کب تک

    مزید پڑھیے

    تشنگی

    دل کی تپش سینے کی خلش جوش جگر ہوش نظر حسن و عشق مال و رزق لبوں پہ جب بھی ان کا ذکر آیا اے تشنگی نام تیرا پھر ان کے ساتھ ضرور آیا

    مزید پڑھیے

    ہجر

    ہجر میں بھی فرقت کا گماں ہونے نہیں دیتا رہتا ہے وہ خیالوں میں اتنے قریب کہ وصل کی صورت میں دھلنے لگتا ہے اس کا احساس

    مزید پڑھیے

    میں

    تیری گفتگو میں ایک جستجو ہے جو میرے روبرو ہے میرا ہو بہ ہو ہے میرا میں اور تیرا میں دراصل یہی تو دونوں کا عدو ہے چلو اس میں کا فاصلہ مٹا دیں مگر میں کی اس انا میں قید ہمارے وجود کو یہ فیصلہ منظور کب ہے

    مزید پڑھیے

    آج اور کل

    آس پاس سانس لیتی زندگی امن چین کی چاہت میں اڑتے پرندے گھر آنگن میں ہریالی کے سائے تازہ بہتی ہوائیں روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی امیدیں بہت کچھ باقی ہے ابھی نئے سرے سے دنیا کو سجانے سنوارنے کے لئے اپنے آج کو سنبھال کر اور خوب صورت بنانے کے لئے

    مزید پڑھیے

    لفظ

    لفظوں کے ہتھیار سنبھل کر کیجیئے استعمال ذرا چوکے تو حدیں ساری ٹوٹ جائیں گی چکنا چور ہو جائیں گے رشتوں کے گلدان رہیں ہوشیار کر دے نہ کوئی وار بڑے جان لیوا ہوتے ہیں یہ لفظوں کے ہتھیار

    مزید پڑھیے

    نشان

    طبیعت تو خوب پائی ہے لہروں نے چٹانوں پہ سر پٹک کے دم توڑنے کی ان کی فطرت کا کمال تو دیکھو بارہا ٹوٹ کر بھی سنگ دل کے سینے پر آخر اپنے وجود کا نشان چھوڑ جاتی ہیں

    مزید پڑھیے

    ماہ کامل

    ایک ماہ کامل ہے میرا اس کائنات میں جس کی روشنی میں جگمگاتا ہے میرا عکس منور ہیں میری راہیں نور اس کا ہے پر سکون وہ تجلی ہے راہ حیات کی اس کی نرم و نازک شعاعوں سے کوئے دل میں اجالا ہے میرے ماہ کامل کو میرے مولیٰ محفوظ رکھنا

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4