بزرگوار
ایک عمر دراز چہرہ
پیس میکر سے دھڑکتا ہوا دل
آنکھ کی دھندلاتی روشنی
زندگی کی چمک
پورے کنبے کا جغرافیہ
اپنے ارد گرد سمیٹے
زندگی کی شام کو
یادوں میں لپیٹے
عمر کی لکیروں میں
تجربے کی چمک
کسی فرشتے کی طرح
ایک بزرگ کا سایہ
گھر میں ٹہلتا ہے
اپنے دھیمے قدموں سے
چہل قدمی کرتے ہوئے
سب کی خبر رکھتا
بس دعا ہے یہی
اس دعا کے ہاتھ
سب کے سر پر رہے
کاش ہر بزرگ کا مان
ہر گھر میں رہے