کاظم جرولی کی غزل

    کبھی بہار کا موسم نیا دکھائی دے

    کبھی بہار کا موسم نیا دکھائی دے گلاب باتیں کریں اور صبا دکھائی دے شب جنوں ہے کوئی معجزہ دکھائی دے کسی مکاں کا کوئی در کھلا دکھائی دے میں چاہوں تشنہ لبی کیا سے کیا دکھائی دے تمام جوئے رواں آبلہ دکھائی دے تمام شب کے اندھیرے لیں انتقام اگر چراغ چھیننے والی ہوا دکھائی دے حصار ...

    مزید پڑھیے

    فضائے شہر کی نبض خرام بیٹھ گئی

    فضائے شہر کی نبض خرام بیٹھ گئی فصیل شب پہ دیا لے کے شام بیٹھ گئی وہ دھول جس کو ہٹایا تھا اپنے چہرے سے وہ آئنوں پہ پئے انتقام بیٹھ گئی گزرنے والا ہے کیا روشنی کا شہزادہ جو بال کھول کے رستے میں شام بیٹھ گئی ستم کی دھوپ میں ایسا وہ اک شجر تو ہے کہ جس کے سائے میں دنیا تمام بیٹھ ...

    مزید پڑھیے

    قاتلو مانگیں تو سوغات سفر دے دینا

    قاتلو مانگیں تو سوغات سفر دے دینا میرے بچوں کو مرا کاسۂ سر دے دینا لوگ پوچھیں گے کہ پردیس سے کیا لائے ہو راستو ہم کو ذرا گرد سفر دے دینا سرحدیں جس کی ملیں دار سے زندانوں سے زندگی مجھ کو وہی راہ گزر دے دینا اہل لشکر جو کمیں گاہوں میں واپس جانا میرے ہاتھوں میں بھی بوسیدہ سپر دے ...

    مزید پڑھیے

    گل نے جب اختیار کی آواز

    گل نے جب اختیار کی آواز اور مہکی بہار کی آواز کب سنیں گی ہمارے رشتوں کی سوکھی شاخیں بہار کی آواز آنے والا ہے کون سا موسم گل سے آتی ہے خار کی آواز پتھروں پر اثر نہیں کرتی جھیل دریا چنار کی آواز جانے کس سمت کس سمندر میں سو گئی آبشار کی آواز کر گئی ہے سماعتیں مجروح ٹوٹتے اعتبار کی ...

    مزید پڑھیے

    کہتا ہے مرا عزم کہ دو گام چلا ہوں

    کہتا ہے مرا عزم کہ دو گام چلا ہوں اور پاؤں یہ کہتے ہیں کہ صدیوں کا تھکا ہوں منزل کا بھرم مجھ پہ عیاں ہو گیا یارو بہتر ہے پلٹ جاؤں جہاں سے میں چلا ہوں دستور زمانہ مجھے اپنائے گا کیوں کر میں سر سے اتاری ہوئی بیوہ کی ردا ہوں سر دھوپ میں دنیا کی چھپانا نہیں آساں میں قد میں ہر اک جسم ...

    مزید پڑھیے

    سرابوں سے نوازا جا رہا ہوں

    سرابوں سے نوازا جا رہا ہوں امیر دشت بنتا جا رہا ہوں مرے دریا ہمیشہ یاد رکھنا ترے ساحل سے پیاسا جا رہا ہوں فضائیں سبز ہوتی جا رہی ہیں میں جتنا زہر پیتا جا رہا ہوں اک ایسے خواب کی آنکھوں کو ضد ہے تہ خنجر بھی سویا جا رہا ہوں مرے باہر فصیل آہنی ہے مگر اندر سے ٹوٹا جا رہا ہوں زمانہ ...

    مزید پڑھیے

    کہاں کھو گئے ہیں سائے وہ گھنے چنار والے

    کہاں کھو گئے ہیں سائے وہ گھنے چنار والے وہ روش روش ترانے حسین آبشار والے شب و روز ڈھونڈھتا ہوں وہی پر بہار وعدے وہی مضطرب سے لمحے ترے انتظار والے دھلی برف کی چٹانیں حسیں دیو دار جھیلیں کہیں بھول ہی نہ جائیں ہمیں کوہسار والے ہیں اداس اداس پتے وہ ندی کے سبز ساحل مرے راز کے ...

    مزید پڑھیے

    کاش مٹتی ہوئی خوشبو کو سہارا مل جائے

    کاش مٹتی ہوئی خوشبو کو سہارا مل جائے شاخ سے ٹوٹے ہوئے پھول کا رشتا مل جائے سوچے سورج سے کہو ایسی کوئی گردش نو جسم سے جسم ملے سائے سے سایا مل جائے دشت کہتا ہے مرے پاس تو قطرہ بھی نہیں پیاس کہتی ہے مجھے پینے کو دریا مل جائے نور پھر نور ہے چمکے گا وہ جگنو ہی سہی شرط یہ ہے کہ اسے ...

    مزید پڑھیے

    یہ سچ ہے چراغاں تھا اجالا بھی بہت تھا

    یہ سچ ہے چراغاں تھا اجالا بھی بہت تھا بستی کو مگر خوف ہوا کا بھی بہت تھا جس گھر کے در و بام پہ دیکھے گئے شعلے کچھ روز سے اس گھر میں اندھیرا بھی بہت تھا اچھا ہے جو دنیا نے مجھے چھوڑ دیا ہے میں بھیڑ کے ہم راہ اکیلا بھی بہت تھا موسم نے جسے کر دیا بے برگ و برہنہ سنتا ہوں کہ اس پیڑ میں ...

    مزید پڑھیے

    خشک ہونٹوں پہ مرے اپنے لب تر رکھ دے

    خشک ہونٹوں پہ مرے اپنے لب تر رکھ دے میرے ساقی مرے صحرا پہ سمندر رکھ دے مقتل عشق میں اب تک جو پڑی ہے بے سر کوئی اس لاش پہ لے جا کے مرا سر رکھ دے زد میں ہے تیز ہواؤں کی کتاب ہستی کوئی اڑتے ہوئے اوراق پہ پتھر رکھ دے زندگی قید نہ کر جسم کے ایوانوں میں یہ چراغ اپنا کسی راہ گزر پر رکھ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3