گل نے جب اختیار کی آواز

گل نے جب اختیار کی آواز
اور مہکی بہار کی آواز


کب سنیں گی ہمارے رشتوں کی
سوکھی شاخیں بہار کی آواز


آنے والا ہے کون سا موسم
گل سے آتی ہے خار کی آواز
پتھروں پر اثر نہیں کرتی
جھیل دریا چنار کی آواز
جانے کس سمت کس سمندر میں
سو گئی آبشار کی آواز
کر گئی ہے سماعتیں مجروح
ٹوٹتے اعتبار کی آواز
کل انہیں بام و در سے آئے گی
میرے نقش و نگار کی آواز
اب تو آنے لگی ہے آنکھوں سے
نیند کے انتظار کی آواز
تو مقرر ہے کس زمانے کا
تجھ سے آتی ہے دار کی آواز
خنجروں کے بدل گئے لہجے
اک غریب الدیار کی آواز
قافلے کا پتا بتائے کون
چپ ہے صحرا غبار کی آواز
تیرے ہر شعر کا ہے اے کاظمؔ
حرف تنہا ہزار کی آواز