خشک ہونٹوں پہ مرے اپنے لب تر رکھ دے
خشک ہونٹوں پہ مرے اپنے لب تر رکھ دے
میرے ساقی مرے صحرا پہ سمندر رکھ دے
مقتل عشق میں اب تک جو پڑی ہے بے سر
کوئی اس لاش پہ لے جا کے مرا سر رکھ دے
زد میں ہے تیز ہواؤں کی کتاب ہستی
کوئی اڑتے ہوئے اوراق پہ پتھر رکھ دے
زندگی قید نہ کر جسم کے ایوانوں میں
یہ چراغ اپنا کسی راہ گزر پر رکھ دے
انقلاب اصل میں اس وقت مکمل ہوگا
زانوے خار پہ جب پھول کوئی سر رکھ دے
یا تو ہر شخص مرے ہاتھ پہ بیعت کر لے
یا کوئی بڑھ کے مرے حلق پہ خنجر رکھ دے
آج کاظمؔ جو نہیں تیرے ہنر کے قائل
روبرو ان کے صحیفہ کوئی لکھ کر رکھ دے