کہاں کھو گئے ہیں سائے وہ گھنے چنار والے
کہاں کھو گئے ہیں سائے وہ گھنے چنار والے
وہ روش روش ترانے حسین آبشار والے
شب و روز ڈھونڈھتا ہوں وہی پر بہار وعدے
وہی مضطرب سے لمحے ترے انتظار والے
دھلی برف کی چٹانیں حسیں دیو دار جھیلیں
کہیں بھول ہی نہ جائیں ہمیں کوہسار والے
ہیں اداس اداس پتے وہ ندی کے سبز ساحل
مرے راز کے نگہباں مرے اعتبار والے
کہاں چھپ گیا ہے کاظمؔ ترے کارواں کا رہبر
اسے یاد کر رہے ہیں ابھی تک غبار والے