یہ سچ ہے چراغاں تھا اجالا بھی بہت تھا

یہ سچ ہے چراغاں تھا اجالا بھی بہت تھا
بستی کو مگر خوف ہوا کا بھی بہت تھا


جس گھر کے در و بام پہ دیکھے گئے شعلے
کچھ روز سے اس گھر میں اندھیرا بھی بہت تھا


اچھا ہے جو دنیا نے مجھے چھوڑ دیا ہے
میں بھیڑ کے ہم راہ اکیلا بھی بہت تھا


موسم نے جسے کر دیا بے برگ و برہنہ
سنتا ہوں کہ اس پیڑ میں سایا بھی بہت تھا


اب دھوپ میں سوتا ہے جو کھولے ہوئے آنکھیں
گزری ہوئی راتوں میں وہ جاگا بھی بہت تھا


کیوں توڑ کے جاتا نہ وہ آئینہ ہمارا
ہم نے اسے شیشے میں اتارا بھی بہت تھا


ہیں ریت میں انسان کے ادھڑے ہوئے ناخن
حیرت کی نہیں بات وہ پیاسا بھی بہت تھا


کاظمؔ تھی بہت قدر کبھی اہل قلم کی
دنیا میں کبھی نام ہمارا بھی بہت تھا