قاتلو مانگیں تو سوغات سفر دے دینا

قاتلو مانگیں تو سوغات سفر دے دینا
میرے بچوں کو مرا کاسۂ سر دے دینا


لوگ پوچھیں گے کہ پردیس سے کیا لائے ہو
راستو ہم کو ذرا گرد سفر دے دینا


سرحدیں جس کی ملیں دار سے زندانوں سے
زندگی مجھ کو وہی راہ گزر دے دینا


اہل لشکر جو کمیں گاہوں میں واپس جانا
میرے ہاتھوں میں بھی بوسیدہ سپر دے دینا


گھر سے مسموم ہواؤں کو گزرنے کے لئے
کوئی روزن کوئی کھڑکی کوئی در دے دینا


کوئی کہتا ہے یہ مقتل کی زمیں سے جا کر
آسمانوں کو مرے شمس و قمر دے دینا


اب جو گھبرا کے اندھیرے سے یہ دنیا کاظمؔ
روشنی مانگے تو تابوت سحر دے دینا