فضائے شہر کی نبض خرام بیٹھ گئی
فضائے شہر کی نبض خرام بیٹھ گئی
فصیل شب پہ دیا لے کے شام بیٹھ گئی
وہ دھول جس کو ہٹایا تھا اپنے چہرے سے
وہ آئنوں پہ پئے انتقام بیٹھ گئی
گزرنے والا ہے کیا روشنی کا شہزادہ
جو بال کھول کے رستے میں شام بیٹھ گئی
ستم کی دھوپ میں ایسا وہ اک شجر تو ہے
کہ جس کے سائے میں دنیا تمام بیٹھ گئی
میں کس نشیب میں تیرا لہو تلاش کروں
تمام دشت پہ خاک خیام بیٹھ گئی
بہت طویل سفر کا تھا عزم اے کاظمؔ
حیات چل کے مگر چند گام بیٹھ گئی