کاش مٹتی ہوئی خوشبو کو سہارا مل جائے

کاش مٹتی ہوئی خوشبو کو سہارا مل جائے
شاخ سے ٹوٹے ہوئے پھول کا رشتا مل جائے


سوچے سورج سے کہو ایسی کوئی گردش نو
جسم سے جسم ملے سائے سے سایا مل جائے


دشت کہتا ہے مرے پاس تو قطرہ بھی نہیں
پیاس کہتی ہے مجھے پینے کو دریا مل جائے


نور پھر نور ہے چمکے گا وہ جگنو ہی سہی
شرط یہ ہے کہ اسے تھوڑا اندھیرا مل جائے


میرے ہر شعر کے لب پر یہ دعا ہے کاظمؔ
جس قبیلے کا ہوں شاعر وہ قبیلہ مل جائے