کبھی بہار کا موسم نیا دکھائی دے
کبھی بہار کا موسم نیا دکھائی دے
گلاب باتیں کریں اور صبا دکھائی دے
شب جنوں ہے کوئی معجزہ دکھائی دے
کسی مکاں کا کوئی در کھلا دکھائی دے
میں چاہوں تشنہ لبی کیا سے کیا دکھائی دے
تمام جوئے رواں آبلہ دکھائی دے
تمام شب کے اندھیرے لیں انتقام اگر
چراغ چھیننے والی ہوا دکھائی دے
حصار تیرہ شبی پر نظر جمائے رہو
عجب نہیں کہ کوئی راستا دکھائی دے
بتائے کون ہمیں کرب زرد موسم کا
شجر میں کوئی تو پتا ہرا دکھائی دے
تو میرے ذہن پہ چھا جائے خوشبوؤں کی طرح
میں پھول دیکھوں سراپا ترا دکھائی دے
مزاج ایسا بنے آپ ہی کی آنکھوں کو
بہے کسی کا لہو آپ کا دکھائی دے
وہاں تلاش نہ کرنا کبھی مجھے کاظمؔ
جہاں کسی کا کوئی نقش پا دکھائی دے