ٹویٹر پر فالوورز کیسے غائب ہوسکتے ہیں؟

گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے راہنما شہباز گل سمیت کئی صحافیوں نے شکایت کی کہ راتوں رات ان کے فالوورز غائب کردیے گئے۔البتہ ٹویٹر انتظامیہ اس کی تصدیق نہیں کی۔

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں فیس بک کی آمد نے ابلاغ عامہ اور اظہار رائے کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے متوازی بالکل نئی طرز کا میڈیا وجود میں آگیا جسے سوشل میڈیا کا نام دیا گیا ۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں دو برس فیس بک کی اجارہ داری رہی،  جسے بعد میں ٹویٹر نامی سوشل میڈیا ویب سائیٹ نے نہ صرف ٹکر دی بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے بہت بڑی شخصیات کے اس پر آفیشل پروفائل ہونے کی وجہ سے زیادہ مصدقہ پلیٹ فارم کی شکل بھی اختیار کر لی ۔

آج دنیا کی کم و بیش تمام اہم شخصیات اور ادارے ٹوئٹر پر موجود ہیں ۔ امریکی صدر بائیڈن سے لے کر ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد علی تک۔۔۔ سب اپنے آفیشل بیانات اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کرتے ہیں۔۔۔ سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان ہوں یا موجودہ وزیراعظم شہباز شریف۔۔۔حکومت ہو ۔۔۔ اپوزیشن ہو یا ڈی جی آئی ایس پی آر۔۔۔ سب ٹوئٹر کی زبان سے اپنا پیغام عوام الناس تک پہنچاتے ہیں۔ کسی بھی فرد کی ٹویٹر پر مقبولیت کا اندازہ اس کے فالورز کی تعداد سے لگایا جاتا ہے ۔فالورز کی بڑی تعداد کسی بھی ٹویٹر اکاؤنٹ کی نہ صرف مقبولیت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس سے اس اکاؤنٹ کی" کریڈیبلٹی " کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ ہر ٹویٹر صارف کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ فالوورز حاصل کرے تاکہ اس کا اکاؤنٹ زیادہ معتبر اور قابل بھروسہ سمجھا جائے ۔

ٹویٹر فالورز کو بڑھانے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ اپنا کانٹینٹ بہت اچھا تحریر کریں ۔دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کی پرموشن کریں اور حقیقی فالورز حاصل کریں ۔اس طریقہ کار کو آرگینک ٹریفکنگ کہا جاتا ہے ۔اس طریقے سے حاصل کیے گئے فالورز آپ کے حقیقی پیروکار ہوتے ہیں اور وفادار بھی ۔ایک دوسرا طریقہ کار یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فالورز کو خرید لیا جائے ۔ یہ ایک غیر فطری اور مصنوعی طریقہ ہے جس کے ذریعے روبوٹک طریقے سے کام کرنے والے سافٹ وئیرز کو استعمال کرتے ہوئے فالورز کو بڑھایا جاتا ہے ۔یہ ایک جعلی طریقہ ہے ۔اور اس طریقے سے حاصل کئے گئے فالورز قابلِ بھروسہ نہیں ہوتے۔کیونکہ یہ ٹوئٹر کے قواعد و ضوابط کے خلاف ورزی کرتے ہوئے'فیک' طریقے سے بنائے جاتے ہیں۔

گزشتہ روز سینکڑوں ٹوئٹر یوزرز نے ٹویٹس کیں  کہ راتوں رات ان کے فالورز کی تعداد میں  بہت زیادہ کمی ہوگئی ہے۔ کئی افراد نے فالورز کی تعداد میں ہزاروں کی تعداد میں کمی کی شکایت کی ۔

پاکستان میں بھی سیاستدانوں ،صحافیوں، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور سکیورٹی اداروں کے ریٹائرڈ شخصیات نے ٹوئٹر پر فالوورز کی اس چوری کو رپورٹ کیا ۔

ڈاکٹر شہباز گل جو سابقہ وزیراعظم عمران خان صاحب کے معاون خصوصی رہ چکے ہیں اس حوالے سے یوں اظہار خیال کرتے ہیں

"میرے 50 ہزار ٹویٹر فالور ز ایک دم غائب. ان کو بھی کوئی مقصود چپڑاسی ٹکر گیا کیا "

وجاہت کاظمی جو ایک سپورٹس جرنلسٹ ہیں ان کے بھی تین ہزار فالور چرا لیے گئے وہ اس بات پر یوں ٹوئیٹ کرتے ہیں :

"Twitter robbery. Lost 3000 followers overnigh"

احتشام الحق بھی ایک نامور سپورٹس جرنلسٹ ہیں وہ فالورز کی اس چوری کو ٹوئٹر کی جانب سے 'فیک فالوورز' یا

'باٹس' کی صفائی کی مہم قرار دیتے ہیں. انہوں نے اپنی ٹویٹ میں اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کیا :

"No more bots or fake followers on Twitter. Check your followers, if decreased last night. Your followers were either fake or they were bots."

 

میجر( ریٹائرڈ )عدیل راجہ بھی ایک مقبول سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں .ان کے بقول چند گھنٹوں میں انہوں نے 12 ہزار فالورز کھو دیے۔ انہوں نے اپنا احتجاج ان الفاظ میں ٹویٹ کیا :

"  I lost 12k followers in last few hours. Everyone is reporting the same phenomenon. Looks like Twitter is following lead of Elon Musk. Good riddance."

گزشتہ ماہ بھی اس قسم کے مسائل کے بارے میں رپورٹس سامنے آئی تھیں، جب ٹویٹر نے یہ اعلان کیا تھا کہ ایلن  مسک نے ٹویٹر خریدنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاہم بعد میں ٹویٹر انتظامیہ نے وضاحت کی کہ ان کی جانب سے فالورز میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جارہی خواہ وہ حقیقی ہیں یا غیر حقیقی ۔اب کی بار بھی اس قسم کی آراء تو سامنے آ رہی ہیں کہ "ٹویٹر فیک اکاؤنٹ کلین اپ" کر رہا ہے ۔لیکن ٹویٹر انتظامیہ کی طرف سے تاحال کوئی آفیشل بیان سامنے نہیں آیا جو اس بات کی تصدیق یا تردید کر سکے۔

متعلقہ عنوانات