افسانہ

حکایتیں اور کہانی

اس نے کشکول اُٹھا تو لیا تھا مگر اس کی انگلیاں کپکپارہی تھیں۔ وہ کشکول لیے چوراہے پر کھڑا تھا۔ اسے کچھ حکایتیں یاد آرہی تھیں: ’’ایک بادشاہ کے پاس بے شمار دولت تھی مگر بادشاہ اس دولت میں سے ایک پائی بھی اپنے اوپر خرچ نہیں کرتا تھا۔اس لیے کہ اس میں لوٹا ہو امال اور مانگا ہوا خراج ...

مزید پڑھیے

ایک اور منتھن

آواز نے سب کو چونکا دیا۔متحرک پاؤں ٹھٹھک گئے۔ مصروف ہاتھ رُک گئے ۔ کان اعلان سننے کے لیے بے قرار ہواٹھے۔ ’’بھائیو اور بہنو!بزرگو اور بچو!آج رات کلا بھون میں دیش کی مشہور ناٹک منڈلی’’سنسکرتی‘‘ اپنا ایک ناٹک ’’ساگر منتھن‘‘ پر ستوت کرے گی۔ اس کھیل میں منجھے ہوئے کلا کار اپنی ...

مزید پڑھیے

سرسوتی اسنان

بھائی صا حب ! الہ آباد تک آیا ہوں تو سو چتا ہوں کہ سنگم بھی ہوآؤں۔ ’’سنگم جاؤ گے ؟ ‘‘ رگھو رائے سنگھ اے۔جے۔آر کو گھور نے لگے۔ ’’میں کسی آستھا یا پونیہ کی وجہ سے نہیں جانا چا ہتا ہوں۔‘‘ ’’تو پھر؟‘‘ بھائی صاحب ! سنگم ایک تیرتھ استھان ہی نہیں، وہ اور بھی بہت کچھ ...

مزید پڑھیے

سائیبر اسپیس

شتابدی اکسپریس،سوپرفاسٹ میل،پسنجرٹرین،بس،بدئبیت،بے ہنگم،بدبودار دھواں چھوڑتی اور پھٹپھٹ کرتی میٹاڈور،ہچکولے کھاتی رکشا اور تنگ وپرخارپیدل کا سفرطے کرکے وہ اس بستی میں داخل ہوا۔ دھنداوردھول سے اٹی بے جان اورسنسان بستی کو دیکھتے ہی جیتی جاگتی جگمگاتی شہری آبادی کا ایک ...

مزید پڑھیے

مسنگ مین

مِسنگ مَین ہمارے اپنے مکان کی دیواروں پرمیری پسندکارنگ ابھی چڑھناشروع ہی ہواتھا کہ اسے دیکھ کر میرے بچّوں کی ناک بھوں سکڑگئی۔ بیٹابولا،’’پاپا!یہ کیسا رنگ کرارہے ہیں؟پلیزاسے روک دیجیے۔‘‘ ’’ہاں،پاپا!یہ بالکل اچھّانہیں لگ رہاہے۔موُیاکوئی اورنیاکلر کرائیے۔‘‘ بیٹی بھی ...

مزید پڑھیے

درد کی کمی کا کرب

صبح کی سیر کے دوران راستے میں روزانہ ہی اظہار الدین کی نگاہیں ایک پر کشش معمر خاتون پر پڑتیں۔ اس خاتون کے ایک ہاتھ میں ایک پٹّا ہوتا ہے اور اس پٹیّ سے بندھا ایک کتّا۔ کتّے کے کسے ہوئے سڈول اور چھریرے جسم پر ایک گرم کپڑے کی صدری چڑھی ہوتی جس کا رنگ ہر دوسرے تیسرے دن بدل جاتا ۔ کتّا ...

مزید پڑھیے

تصویرِ تختِ سلیمانی

معمر شخص جس کا چہرہ، سر کے بال، جسم کی جلد، بھنویں، لباس سبھی سفید تھے اور جس کی آنکھیں رات ڈھلے تک بھی بند نہیں ہوتی تھیں اور صبح وقت سے پہلے کھل جاتی تھیں، کی نظریں حسبِ معمول تصویر تختِ سلیمانی پر مرکوز تھیں۔ وہ تصویر سامنے کی دیوار پر عین دروازے کے اوپر آویزاں تھی۔ اس تصویر ...

مزید پڑھیے

مہا رشی ددھیچی

دھار دار لمبے دانتوں، تیز نکیلے سینگوں،زہر آلود گرم سانسوں اور کئی کئی ہاتھ والے دو پائے گنڈاسے اور کمانیں سنبھالے بگولوں کی طرح دھرتی پر ڈولنے لگے ۔ دانت گردنوں میں پیوست ہو گئے ۔خون کے فوارے ابلنے لگے ۔سینگوں میں جسم گتھ گئے ۔دست و پا چھٹپٹانے لگے ۔پھونکوں سے دور دور تک پیڑ ...

مزید پڑھیے

آبیاژہ

تگ و دو کے بعد بھی کنواں جب پیاسوں کے ہاتھ سے نکل گیا تو کسی گہرائی سے زور دار قہقہے بلند ہوئے۔ جیسے کوئی اپنی طاقت اور دوسرے کی ہزیمت کا احساس دلا رہا ہو۔ پیاس، یاس اور شکست کے احساس نے پیاسوں کو ایسا مضطرب اور مشتعل کیا کہ ان کے چہرے کی زردیوں میں بھی سرخیاں لپلپانے لگیں۔ ان کے ...

مزید پڑھیے

حکمت

جب وہ بالکل تنہا ہوگیا تو میں اس کے پاس پہنچا اور اس کے چہرے کی طرف غورسے دیکھتے ہوئے پوچھا، ’’اب کیسا محسو س کررہے ہیں؟‘‘ ’’جیسے جہنم کے ایک طبق سے نکل کر دوسرے میں پہنچ گیا ہوں۔‘‘ اس نے جلے بھنے لہجے میں جواب دیا۔ ’’ایسا کیوں؟آپ تو باعزّت بری ہوئے ہیں؟‘‘ میں نے سمجھا نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 182 سے 233