ایک اور منتھن
آواز نے سب کو چونکا دیا۔متحرک پاؤں ٹھٹھک گئے۔ مصروف ہاتھ رُک گئے ۔ کان اعلان سننے کے لیے بے قرار ہواٹھے۔
’’بھائیو اور بہنو!بزرگو اور بچو!آج رات کلا بھون میں دیش کی مشہور ناٹک منڈلی’’سنسکرتی‘‘ اپنا ایک ناٹک ’’ساگر منتھن‘‘ پر ستوت کرے گی۔ اس کھیل میں منجھے ہوئے کلا کار اپنی بے مثال کلا کا کمال دکھائیں گے۔آج کا یہ رومانچک کھیل آپ دیکھنا نہ بھولیں ۔خود آئیں اور اپنے ملنے والوں کو بھی ساتھ لائیں۔‘‘
ناٹک کا مژدہ سن کر لوگوں کے دلوں میں ترنگ بھر گئی ۔ٹھہرے ہوئے ہاتھ پاؤں دوبارہ حرکت میں آگئے ۔ بند پڑے کام تیزی سے نمٹنے لگے۔ آنکھیں روشنی کے جانے اور تاریکی کے آنے کی دعائیں مانگنے لگیں۔
دن ڈھلتے ہی کلا بھون کے پنڈال میں لوگوں کا ہجوم لگ گیا۔ نگاہیں پردے کے پیچھے کے منظر کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہوگئیں۔تجسّس انتہا کو پہنچنے لگا۔
پردہ اٹھ گیا۔
منظر اپنے ایک ایک خط و خال کے ساتھ آنکھوں میں بسنے لگا۔ اسٹیج کے درمیانی حصے میں بنا مصنوعی سمندر، سمندر کے وسط میں گھومتا ہوا اسٹیل کا ایک گول مٹول کھمبا، کھمبے سے لپٹی ہوئی پلاسٹک کی موٹی رسّی ،رسّی کے دونوں سروں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے بہت سارے لوگ۔
ایک طرف کے لوگوں کا تین چوتھائی جسم کپڑوں سے خالی ، سر پرروکھے پھیکے بے ہنگم بال، چہرے کا جھلسا ہوا رنگ ،دھنسی ہوئی آنکھیں، پچکے ہوئے گال ، ہونٹوں پر پپڑیاں، چھاتی کی جھانکتی ہوئی پسلیاں ، ننگے پاؤں، پنڈلیوں اور ہاتھوں پر کن کھجوروں کی طرح ابھری ہوئی رگیں۔
دوسری جانب کے لوگوں کا بدن سرسے پاؤں تک گھٹا ہوا۔ سڈول ہاتھ پاؤں ، بھرے ہوئے گال چمک دار چہرے ، روشن آنکھیں۔
دونوں طرف کی نگاہیں سمندر پر مرکوزمسلسل گھومتے ہوئے کھمبے کے پاس سے نکلتا ہوا ایک خاص طرح کا شور، سطح سے اٹھتا ہوا جھاگ۔
اسٹیج کے ایک حصے میں کرسیوں پر عمدہ لباس زیب تن کیے ہوئے کچھ معمر اور سنجیدہ افراد ایک گوشے میں کچھ بڑے چھوٹے برتن ، رسیوں کا گٹھّر وغیرہ۔
کرسیوں پر براجمان افراد میں سے ایک شخص کھڑا ہوا۔
’’دیویوتتھا سجّنو! ساگر منتھن شروع ہوچکا ہے۔ دھیان سے دیکھیے اور پرارتھنا کیجیے کہ سمندر کے گربھ سے وہ سب کچھ باہر نکل آئے جس کی ہمیں آوشیکتا ہے اور ہمار اُدشیہ ایک ایک منشیہ تک پہنچ جائے جس کے لیے یہ رچنا رچی گئی ہے۔ دھنیہ واد۔‘‘
مجمعے کی آنکھیں اسٹیج پر مرکوز ہوگئیں ۔کچھ گوشوں میں سر گوشیاں شروع ہوگئیں۔
کرسی سے تھوڑی دیر بعد ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا۔
’’ہمارے پیارے تماش بین! آپ کی بد بداہٹیں اور آنکھوں کی پتلیوں کی گردشیں یہ بتارہی ہیں کہ آپ کچھ حیران ہیں۔ آپ کی حیرانی کی وجہ شاید یہ ہے کہ آپ ساگر منتھن کے قصّے سے پر چت ہیں ۔ آپ کے من میں یہ پرشن اٹھ رہے ہوں گے کہ آج کے منتھن میں دیوتا اور دانوں کی جگہ مانو، پر بت کے استھان پر اسٹیل کا کھمبا، اور نا گ و اسو کی کی جگہ پلاسٹک کی رسی کیوں؟ آپ کے یہ پرشن سبھا وک ہیں لیکن آپ دھیرج رکھیے ۔ ناٹک کا انت آتے آتے آپ کے ان تمام سوالوں کے جواب اوشیہ مل جائیں گے۔‘‘
سرگوشیاں رک گئیں۔ لوگوں کی نظریں سمندر کی سطح پر مرکوز ہوگئیں۔ البتہ کچھ نظریں اب بھی اسٹیج پر گردش کرتی رہیں۔
’’دیکھو!دیکھو! کچھ نکل آیا۔‘‘ اسٹیج پر بیٹھے کسی کے منہ سے یہ آواز نکلی ۔یک بارگی منتھن رک گیا۔ رسّی کھینچنے والوں کی نگاہیں سطحِ آبِ کا جائزہ لینے لگیں۔ان کی آنکھوں میں چمک دوڑ گئی۔پیشانی پر نور جھلملانے لگا۔
اسٹیج پر بیٹھے کچھ لوگ اپنی جگہ سے اُٹھ کر سمندر کے پاس پہنچے اور گربھ سے نکلے پدارتھ کو پانی سے نکال کر ایک بڑے برتن میں رکھ دیا۔
’’کیا نکلا صاحب؟‘‘ تین چوتھائی عریاں جسموں والے لوگوں کی جانب سے سوال کیا گیا۔کرسی پر بیٹھے معمر اشخاص میں سے ایک فرد کھڑا ہوا۔
’’آپ کا سوال بالکل فطری ہے ۔آپ کی محنت سے جو رتن نکلا ہے اس کے بارے میں آپ کو جاننے کا پورا پو‘را ادھیکار ہے پرنتو بنا جانچے پرکھے یہ بتانا سمبھونہیں ہے کہ ابھی ابھی سمندر کے گربھ سے جو رتن نکلا ہے وہ کیا ہے؟ اس کے لیے ابھی آپ کو تھوڑا انتظار کرناپڑے گا۔‘‘
منتھن پھر سے جاری ہوگیا۔رکے ہوئے ہاتھ رسی کھینچنے میں مصروف ہوگئے۔ہاتھوں کی رگیں پھولنے لگیں ۔ جسم سے پسینہ بہنے لگا۔ آنکھیں کسی اور رتن کے انتظار میں سمندر کی سطح پر مرکوز ہوگئیں۔
تین چوتھائی ننگے بدن والے لوگوں کی صف کا ایک آدمی اچانک لڑکھڑا نے لگا۔
’’کیا کررہے ہو، ٹھیک سے رسی کھینچو انیتھا سنتولن بگڑجائے گا۔‘‘کرسی پر بیٹھے اشخاص میں سے ایک نے قدرے سخت لہجے میں ٹوکا۔
’’کم زور ی سے چکّر آگیا صاحب!اس لیے...‘‘ اس کی زبان بند ہوگئی ۔ضعف کے سبب وہ جملہ پورا نہ کرسکا۔
’’یہ کیوں نہیں کہتے کہ تم اب کام کے لائق نہیں رہے، نہیں کھینچا جارہا ہے تو ادھر جاکربیٹھ جاؤ۔‘‘
’’اچھا صاحب !‘‘یہ کہہ کر وہ صف سے نکل کر کنارے جاکر بیٹھ گیا اور اس کی جگہ اسی کے قبیلے کا ایک آدمی آکر رسّی کھنچنے میں مصروف ہوگیا۔
’’پھر کچھ نکلا۔‘‘شور بلند ہوا۔
یک بارگی رسّی کھینچنے والوں کے ہاتھ رک گئے ۔نگاہیں سطحِ آب پر مرکوز ہوگئیں ۔ حسبِ معمول کچھ لوگ کرسیوں سے اٹھ کر پانی کے پاس پہنچے اور تہہ سے سطح پر آئے پدارتھ کو نکال کر ایک برتن میں رکھ دیا۔
منتھن پھر سے جاری ہوگیا۔رکے ہوئے ہاتھ پھر سے رسّی کھینچنے میں مصروف ہوگئے۔ہاتھوں کی رگیں تننے لگیں۔جسم سے پسینہ بہنے لگا۔ آنکھیں کسی اور رتن کا بے صبری سے انتظار کرنے لگیں۔
’’کیا نکلا ہوگا؟‘‘تماشائیوں کے ایک گوشے میں ایک نے دوسرے سے پوچھا۔
’’پہلی بار تو کوئی نیلے رنگ کا بدارتھ نظر آیا تھا۔‘‘
’’اور اس بار؟‘‘
’’اس بار ٹھیک سے دھیان نہ دے سکا۔‘‘
’’پہلا والا وِش تو نہیں تھا؟‘‘
’’ہوسکتاہے۔‘‘
’’اور دوسرا والا امرت ہو؟‘‘
’’سمجھو ہے۔‘‘
’’یار انھیں بتانا چاہیے۔‘‘
’’بتائیں گے۔‘‘
’’کب؟‘‘
’’جب منتھن پورا ہوجائے گا۔‘‘
’’یار !انھیں بتاتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے‘‘۔
’’پھر کھیل میں ہماری دل چسپی کیسے قائم رہے گی؟‘‘
’’ہاں، یہ بات بھی صحیح ہے ‘‘۔
کچھ دیر بعد رسی کھینچنے والے ہاتھ پھر رک گئے۔نگاہیں سمندر سے نکلے پداتھ پر مرکوز ہوگئیں۔ کچھ لوگ آگے بڑھے ۔سطح سے رتن کو نکال کر ایک تیسرے برتن میں رکھ دیا گیا۔
رسّی کھینچنے کا عمل جاری رہا مگر اس بار کافی دیر بعد بھی کچھ نہیں نکلا۔ رسّی کھینچنے والوں کی پریشانی بڑھ گئی۔ کم زور جسم لڑکھڑا کر زمین پر گرنے لگے۔
’’دیکھیے ،ہمّت نہ ہاریے ، اور زور لگائیے ۔رفتار بڑھائیے۔ابھی سمندر کے گربھ میں بہت کچھ ہے۔ آشا ہے، وہ سب کچھ بھی باہر آجائے گا جو ابھی تک تہ میں پڑا ہوا ہے۔‘‘کرسی پر بیٹھے ایک نے رسّی کھینچنے والوں کی ہمت بڑھائی ۔
زور اور رفتار دونوں میں اضافہ ہوگیا مگر دھیرے دھیرے چہروں پر مایوسی چھانے لگی۔ آنکھوں سے نا امیدی جھانکنے لگی۔رسی کھینچنے کا عمل سست پڑنے لگا۔ مایوسی اور نا امیدی کی پرت گہری ہوتی گئی۔اور اچانک منتھن کا کام رک گیا۔
دونوں طرف کے لوگ ان برتنوں کے ارد گرد جاکر کھڑے ہوگئے جن میں ساگر سے نکلے ہوئے رتنوں کو رکھا گیا تھا۔
’’دیکھیے ، شانتی سے اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جائیے اور دھیرج بنائے رکھیے ۔بس تھوڑی ہی دیر میں ہم ان رتنوں کی پریکشا کرنے والے ہیں۔‘‘اسٹیج سے ایک آواز گونجی۔
آواز سنتے ہی اسٹیج اور پنڈال دونوں طرف کی بد بداہٹیں رک گئیں ۔لوگ اپنی اپنی جگہ پر لوٹنے لگے۔
ایک آدمی برتن کے قریب پہنچا اور اس میں سے رقیق مادہ نکال کر اس نے کچھ لوگوں کو پینے کے لیے دیا۔
رقیق مادہ پیتے ہی وہ لوگ چکر کھاکر دھڑام سے زمین پرگر پڑے ۔ان کے منہ سے نیلے رنگ کا جھاگ نکلنے لگا۔ کچھ دیر تک وہ مچھلی کی طرح تڑپتے رہے۔پھر سب نے آہستہ آہستہ اپنا دم توڑ دیا۔
ماحول میں خوف و ہراس کی فضا چھاگئی۔
وہ آدمی دوسرے برتن کے پاس پہنچا اور اس میں سے رقیق مادہ نکال کر کچھ اور لوگوں کی طرف بڑھا۔بڑی مشکل سے وہ لوگ اس رقیق شے کو اپنے لبوں سے لگا پائے۔ لبوں سے لگتے ہی ان کا حال بھی وہی ہوا جو پہلے برتن کے رقیق مادہ پینے والوں کا ہوا تھا۔
دہشت اور بڑھ گئی۔
ہمت کرکے اس آدمی نے تیسرے برتن سے رقیق شے نکال کر کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کچھ لوگوں کی طرف بڑھایا مگر اسے لینے کے لیے کوئی بھی ہاتھ آگے نہ بڑھ سکا۔
’’سمبھو ہے یہ امرت ہو ۔ دیکھیے ، اس کا رنگ بھی پہلے والے رتنوں سے بھّن ہے۔ آپ ہاتھ نہیں بڑھائیں گے تو کیسے پتا چلے گا کہ یہ کیا ہے؟ ویسے میں آپ کو وشواس دلاتا ہوں کہ یہ امرت ہے ۔ آپ اسے پیجیے اور پی کر امر ہوجائیے‘‘جب کوئی ہاتھ آگے نہیں بڑھا تو وہ بولا
’’ٹھیک ہے اسے میں ہی پی کر دیکھتا ہوں۔‘‘ڈرتے ڈرتے اس شخص نے پیالے کو اپنے لبوں سے لگا لیا مگر اس کا خیال غلط ثابت ہوا۔اسے پیتے ہی اس کا بھی وہی حشر ہوا جو دوسروں کا ہوا تھا۔
یہ دیکھتے ہی چاروں طرف سنّاٹاچھا گیا۔ لوگ حیرت اور خوف سے ان برتنوں کو تکنے لگے جس میں موجود رقیق شے نے کتنوں کی جان لے لی تھی۔
’’اس بار امرت کیوں نہیں نکلا؟‘‘اسٹیج کے کسی آدمی کے منہ سے یہ جملہ سہما ہوا نکلا۔ ‘‘
مگر اس سوال کا جواب کسی کے بھی منہ سے باہر نہیں آیا۔چاروں طرف خاموشی چھائی رہی۔
’’آج کا منتھن تو وچتر رہا۔‘‘ کافی دیر بعد اسٹیج کا ایک آدمی بولا۔
’’ہاں!پرینام پہلے جیسا نہیں نکلا ۔‘‘دوسرے نے سُر میں سُر ملایا۔
’’آخر ایک ہی تتوکیوں نکلا؟وہ بھی وش!‘‘
’’میں بھی تو اس پرشن سے پریشان ہوں۔‘‘
’’اس کا رہسیہ کیا ہوسکتا ہے؟‘‘
’’مجھے کیا پتا ؟‘‘
’’کس کو پتا ہوگا؟ کس سے پوچھا جائے؟‘‘
’’سمبھو ہے گیا نیشوررشی کچھ پرکاش ڈال سکیں۔‘‘
’’تو ہمیں رشی جی کے پاس چلنا چاہیے۔‘‘
’’ساتھیوں !آپ سب یہیں رکیے ،ہم لوگ گیانیشور رشی کے پاس اس رہسیہ کا پتا لگانے جارہے ہیں۔‘‘
کرسی پر بیٹھے لوگوں میں سے کچھ لوگ اٹھ کر رشی گیا نیشور کے استھان کی طرف چل پڑے۔
پردہ گر گیا۔
دوسرا منظر
ایک ہرا بھرا باغ ۔ باغ کے ایک کونے میں سجی سنوری کٹیا۔ کٹیا کے اندر مرگ چھالے پر آسن جمائے دھیان میں بیٹھے سنت گیانیشور ۔ پردے کے ایک طرف سے کچھ تھکے ہارے حیران و پریشان لوگ آنے والے لوگ گیا نیشور کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوگئے۔
کافی دیر بعدرشی نے آنکھیں کھولیں۔
’’نمسکار منی ور!‘‘ رشی کی کٹیا نمسکار کی آواز سے گونج اٹھی۔
’’آپ لوگ کون ہیں اور کس لیے پدھارے ہیں؟‘‘رشی نے گردن اٹھاکر ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’ہم اسی نگری کے باس ہیں منی ور! ایک سمسیا کا سمادھان چاہتے ہیں۔‘‘
’’سمسیا کیا ہے؟‘‘
’’امرت۔‘‘
’’تنک کھول کر بتائیے۔‘‘
’’جی منی ور!بات یہ ہے مہاراج کہ ہم نے سمندر منتھن کیا، پرنتو اس بار اس میں سے کیول ایک پدارتھ، ایک تتو نکلا۔
’’کیول ایک تتو؟‘‘ رشی کی آنکھیں پھیل گئیں۔
’’ہاں منی ور!ماترایک تتو۔‘‘
’’وہ تتو امرت ہوگا؟‘‘
’’نہیں ،وہ دِش ہے منی ور!‘‘
’’وش ہے! ‘‘ رشی کی آنکھیں کچھ اور پھیل گئیں۔
’’امرت تو نکلا ہی نہیں ،منی ور۔‘‘
’’پرنتو یہ کیسے پتا چلا کہ ساگر سے جورتن نکلا ہے وہ امرت نہیں ،وِش ہے؟‘‘
’’پریکشا کے پشچات منی ور! اسے کچھ لوگوں کو پینے کے لیے دیا گیاپرنتو اسے ہونٹوں سے لگاتے ہی وہ لوگ زمین پر گر پڑے ۔پہلے ان کے منہ سے جھاگ نکلا۔ پھر پورا شریر نیلا پڑ گیا اور وہ ...‘‘
’’اوہ!‘‘ گیا نیشور منی چنتت ہواُٹھے۔
’’منی ور!اس بار منتھن سے امرت کیوں نہیں نکلا؟‘‘
رشی خاموش رہے اور ان کے ماتھے پر پہلے سے زیادہ لکیریں ابھر آئیں۔
یہ دیکھ کر کہ گیا نیشور منی آنکھیں موند کر دھیان میں لین ہوگئے ہیں، کسی نے پھر کوئی سوال نہیں کیا۔ کافی دیر بعد بھی جب رشی اپنے دھیان سے باہر نہیں آئے تو ان میں سے ایک نے پھر وہی سوال دہرایا۔
’’منی ور!اس بار منتھن سے امرت کیوں نہیں نکلا؟‘‘
دھیان سے باہر آتے ہوئے رشی نے نہایت گمبھیر لہجے میں جواب دیا،’’امرت ہوتب تو نکلے۔‘‘
’’ہم سمجھے نہیں منی ور!‘‘
’’ساگر کے گربھ سے امرت پہلے ہی نکل چکا ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ایک ساتھ سبھی چونکے۔‘‘
’’ ہاں اسے نکال کر کچھ لوگوں نے پہلے ہی پی لیا ہے۔‘‘
’’کچھ لوگوں نے پی لیا ہے!کس طرح منی ور؟‘‘
’’متھ کر۔‘‘
’’تو کیا ہم سے پہلے بھی ساگر متھ چکا ہے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’منی ور!وہ کون ہیں جنھوں نے ہم سے پہلے ساگر کو متھ لیا۔ منی ور کہیں آپ کا اشارہ دیوتاؤں کی اور تو نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں ،دیوتاؤں نے تو بہت پہلے متھا تھا ۔یہ ان کے بعد کی بات ہے۔‘‘
’’منی ور یہ کب کی بات ہے اور منتھن کرنے والے کون ہیں؟‘‘
’’یہ کچھ دنوں کی بات ہے اورمتھنے والے بھی تمھارے ہی بیچ کے لوگ ہیں۔‘‘
’’ہمارے بیچ کے؟‘‘
’’ہاں، وہ تمھارے ہی بیچ رہتے ہیں۔‘‘
’’ان کا کچھ اتاپتا منی ور؟‘‘
’’ہم اس سے ادھیک نہیں بتاسکتے کہ وہ کسی اور لوک کے باسی نہیں بلکہ تمھاری ہی دھرتی پر تمھارے ہی ساتھ رہتے ہیں۔‘‘
’’اب کیا ہوگامنی ور؟‘‘
’’اُپچار۔‘‘
’’کیسا اُپچار منی ور ؟‘‘
’’امرت کی پونہہ پر اپتی کا اُپچار۔‘‘
’’کیا ایسا؟ ہوسکتا ہے؟‘‘
’’ہاں ، ہوسکتا ہے۔‘‘
’’کیا یہ سمجھو ہے؟‘‘
’’سمبھو ہے پر ‘‘
’’پر کیا منی ور؟‘‘
’’اُپچار سرل نہیں ہے۔بہت ہی کٹھن اور کشٹ دائک ہے۔‘‘
’’امرت کے لیے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔سب کچھ سہہ لیں گے۔آپ بتائیے توسہی ۔‘‘
’’جن لوگوں نے امرت پیا ہے، ان کے بھیتر سے اسے کھینچناہوگا۔‘‘
’’ان کے بھیتر سے؟‘‘
’’ہاں ان کے بھیتر سے ۔ارتھات ان کے شریر سے۔‘‘
’’پرنتو یہ کیسے سمبھو ہے منی ور؟‘‘
’’سمبھو اس پر کار ہے کہ امرت ابھی بھلی بھانتی ان کے شریر میں گھلا ملا نہیں ہے۔ارتھات وہ اسے پوری طرح پچا نہیں پائے ہیں ۔اُپچار سے اب بھی امرت ان کے شریر سے باہر نکل سکتا ہے۔‘‘
’’کیا اُپ چارکرنا ہوگا منی ور؟‘‘
’’یہ کار یہ میرا نہیں ۔اُپچار آپ کو سوچنا ہے۔اسے آپ کو ڈھونڈنا ہے۔ ہمارا کا ریہ کیول مارگ درشن تھا، سو ہم نے کردیا۔‘‘
’’منی ور!‘‘
’’بولیے۔‘‘
’’ اچھا یہ تو بتادیجیے کہ اس وش کا کیا ہوگا؟‘‘
’’اسے تو کسی نہ کسی کو پینا ہی پڑے گا۔اینتھا یہ سمو چے سنسار کو وشیلا کردے گا۔اس سے سرشٹی ہی نشٹ ہوجائے گی۔‘‘
’’اس کے لیے کوئی اُپچار منی ور؟‘‘
’’اس کا اُپچاربھی آپ کو سوچنا ہوگا۔‘‘
’’دھنیہ واد منی ور!‘‘
’’کلیان ہو۔‘‘
وش کے برتن اٹھا کر وہ لوگ گیا نیشور منی کے کٹیا سے باہر نکل آئے۔
پردہ گر گیا۔
تیسرا منظر
]چندنی چنتنی پیشانی ، دھیانی گیانی نین ، جوگیائی بال اور سادھوئی لباس میں کچھ لوگ گمبھیر مدرا میں چھالے پربراجمان ۔[
ایک آدمی کھڑا ہوا۔
’’سبھاپتی مہودے تتھا اپستھت و چارک گنٹر!رشی گیا نیشور مہاراج نے جس اُپچار کی بات کی ہے اس سے سمبندھت کچھ مول پرشن میں سبھا کے پٹل پر کھنے کی انومتی چاہتا ہوں۔‘‘
’’انومتی ہے۔‘‘ ایک ساتھ کئی آواز گونجیں۔
’’دھنیہ واد!ہمارا پہلا پرشن ہے، امرت پینے والے کون ہیں؟ دوسرا مہتو پورن پرشن یہ ہے کہ امرت پینے والوں کے شریر سے امرت نکلالنے کا اُپ چار کیا ہوگا؟اورتیسرا پرشن ہے، وش کو کیسے ٹھکا نے لگایا جائے ارتھات اسے کیسے اور کسے پلایا جائے تاکہ سنسار کو نشٹ ہونے سے بچایا جاسکے؟‘‘
سنچالک کے سوال سن کر مرگ چھالے پر براجمان لوگوں میں سے ایک نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ’’پہلے تو ہمیں یہ پتا لگانا ہوگا کہ امرت پینے والے کون ہیں؟ یدی وہ ہمارے بیچ کے لوگ ہیں جیسا کہ گیا نیشوررشی نے سنکیت دیا، تو ان کی پہچان کیا ہے؟یدی ان کی پہچان ہمیں مل جاتی ہے تو ان کے بھیتر سے امرت نکالنے کے اُپچار پر وچار کرنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔‘‘
دوسرابولا،’’میرے وچارسے تو پہلے ہمیں اُپچار پر دھیان دینا چاہیے؟ اتنا پتا تو چل ہی چکا ہے کہ امرت پینے والے ہمارے ہی بیچ رہتے ہیں۔اتہہ ان لوگوں کا پتا لگاناکوئی مشکل نہیں ہے پرنتوشریر سے امرت نکالنے کا اُپچار تلاش کرنا آسان نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں اس اور ترنت دھیان دینے کی آوشکیتا ہے۔‘‘
تیسرے آدمی نے دوسرے آدمی کے خیال کی تائید کرتے ہوئے کہا، ’’آپ کا سوچنا اُچت ہے۔ہمیں اُپچار پر پہلے دھیان دینا چاہیے۔میرے و چار سے تو اس کے لیے وہی اوپائے اپنا نا ہوگاجو مویشی کے ذریعے شیر کے شکار کے لیے اپنایا جاتا ہے ۔ارتھات ہمیں شڈینتر رچنا پڑے گا۔‘‘
’’ شڈینتر!‘‘ پہلا آدمی چونکا۔
’’ہاں شڈینتر !شیر کو پکڑنے کے لیے مچان بنانا ہوتا ہے۔ بچھڑاباندھنا پڑتا ہے اور نگاہ ٹکا کر بیٹھنا پڑتا ہے۔‘‘
’’تو آپ کا تات پر یہ یہ ہے کہ امرت نکالنے کے لیے بھی ہمیں کوئی ایسا ہی شڈینتر رچنا پڑے گا۔‘‘اب تک خاموش رہنے والے چوتھے آدمی نے لب کھولے۔
’’جی۔‘‘
’’پرنتو اس کٹھن کاریہ میں کیول شڈینتر سے کام نہیں چلے گا۔ شڈینتر کے ساتھ ساتھ ہمیں مہابھارت کی بھانتی کوئی چکر ویو بھی رچنا ہوگا۔‘‘دوسرے نے اپنے خیال کا اظہار کیا ۔
’’یہ سب تو ٹھیک ہے پرنتو، پہلے یہ تو پتا چلے کہ یہ شڈینتر رچنا کس کے لیے ہے؟ چکرویو کس کے لیے بنا نا ہے؟‘‘
پہلے آدمی نے اپنے خیال کو ایک بار پھر دہرادیا۔
’’ہاں!پہلے تو یہ گیات ہونا چاہیے کہ شیر ہے کون؟میرے وچار سے تو اس کے لیے ہمیں گپت چر لگادینے چاہییں۔‘‘ایک اور آدمی نے پہلے آدمی کے خیال کی تائید کرتے ہوئے اپنی رائے ظاہر کی۔
’’نہیں ، یہ کام گپت چر کے بس کا نہیں ہے۔‘‘پہلے آدمی نے آخری آدمی کی تردیدکی۔
’’تو؟‘‘آخری آدمی نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے پوچھا۔
’’اس کے لیے چنتن منن کی آوشیکتا ہے۔‘‘
’’اس کا ریہ کی ذمے داری چنتکوں کو سنبھالنی چاہیے۔اس کے لیے انھیں آگے آنا چاہیے۔‘‘
’’یہ بات ادھیک ترک سنگت لگ رہی ہے۔ہمیں یہ کام اپنے چنتکوں کو سونپ دینا چاہیے۔ ان سے یہ بھی انورودھ کرنا چاہیے کہ وہ امرت نکلانے کے اُپچار پر بھی چنتن منن کریں اور وِش کو ٹھکانے لگانے کا اُپائے بھی سوچیں۔‘‘
کئی لوگوں نے اس خیال سے اتّفاق کیا۔
’’دھنیہ واد پر ستاؤ کے ساتھ آج کی سبھا کی سماپتی کی گھوشنا کی جاتی ہے۔‘‘
پردہ گرگیا۔
چوتھا منظر
(پُراسرار ماحول۔ گمبھیر مدرا میں بیٹھے چنتک گنٹر۔پلکیں بند، آنکھیں کھلی ہوئیں۔)
یکا یک ایک چنتک کی پیشانی چمک اُٹھی۔ اس کے چہرے پر اطمینان کا چراغ روشن ہوگیا۔
کچھ دیر بعد ایک اور چنتک کی پلکیں کھل گئیں ۔اس کے دیدوں کے دیے بھی جھلمااُٹھے۔
دونوں نے فرش پر پڑے کاغذوں کے ٹرے میں سے ایک ایک کاغذ اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیے اور ان پر جلدی جلدی کچھ لکھنے لگے۔ لکھ لینے کے بعد دونوں نے اپنے اپنے کاغذ ایک دوسرے کی طرف بڑھادیے۔۔
دونوں دیر تک تحریوں پر اپنی نظریں گڑائے رہے۔ پھران دونوں کا غذوں کو بار باری سے باقی تمام چنتکوں کی طرف بڑھادیا گیا۔
کاغذ کی تحریروں کو پڑھتے ہی تمام چہروں پر اطمینان کی کرن جھلملا اٹھی۔
تحریریں پڑھ لینے کے بعد سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔آنکھوں آنکھوں میں بات ہوئی اور ان میں سے ایک شخص کھڑا ہواگیا۔
’’سمسیا کی گمبھیر تااور اس سے سمبندھت جٹلتا کو دیکھتے ہوئے کافی سوچ و چار اور چنتن منن کے بعد جس نش کرش پر پہنچا گیا، وہ یہ ہے کہ وِش کو ٹھکانے لگانے اور اس سرشٹی کو بچانے کا اوپائے یہ ہے کہ اسے(وش کو) ان لوگوں کو پلادیا جائے جن کے دماغ میں سوچنے کی شکتی نہیں ہے اور جن کے شریر بے کار اور سڑگل گئے ہیں۔ چنتن ہین مستشک اور سڑے گلے بے کار شریر والے لوگوں کو جیوت رہنے سے اچھا ہے کہ وہ مرجائیں۔اس سے وِش کی کھپت بھی ہوجائے گی اور اچھے دماغ اور مضبوط شریر کی رکشا بھی ہوسکے گی۔ ان کا مرنا اس لیے بھی آوشیک ہے کہ ان سے دھرتی پر سڑا ندھ پھیلنے کا خطرہ ہے۔‘‘
ہمارے گھورچنتن کے انوسارامرت ان لوگوں نے پیا ہے جو ہم میں رہ کر بھی ہم سے الگ ہیں۔ ان کی پرورتی دوب سے ملتی جلتی ہے اور جو اگنی کی بھانتی پھیلتے ہیں اور ہوا کے سمان بڑھتے ہیں اور جو سمندرکی بھانتی گہرے ہیں۔ شریر سے امرت نکالنے کے اُپ چار کے سمندھ میں جو وِدھیاں ہمارے چنتن منن نے ہمیں سجھائی ہیں،وہ یہ ہیں:
پہلی ودھی ۔ چیراکرن
دوسری ودھی۔ لنکا دہن
تیسری ودھی۔ سمبندھ وِچھیدن
چوتھی ودھی۔ سپمتی سماپن
’’اور ایک انتم ودھی یہ بھی ہوسکتی ہے۔ ‘‘ ایک چنتک جو ابھی تک چنتن میں ڈوبا ہوا تھا، بول پڑا۔
’’کون سی وِدھی ؟‘‘ ایک ساتھ کئی آواز یں ابھریں۔
’’وشار وپن‘‘
’’وشاروپن!‘‘
’’ہاں، وشاروپن ۔وِش روپنے سے امرت کا پشپ باہر آسکتا ہے۔‘‘
’’وہ بھلا کیسے؟‘‘
’’جب اس ودھی کو پر یوگ میں لایا جائے گا تو سب کچھ اپنے آپ سمجھ میں آجائے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ ہم اسے بھی ان وِدھیوں میں شامل کرلیتے ہیں۔اب ہمارا اگلا چرن یہ ہوگا کہ ہم ان وِدھیوں کو ان کے پورن وِورن کے ساتھ ساتھ ہی امرت پینے والوں کی پہچان کی نشانیوں اور مستشک ہین ایوم گلے سڑے شریر والے لوگوں کے پتے اپنے کرم کانڈھ جتھے کے حوالے کردیں تاکہ بنا دیر کیے عملی کاروائی شروع کی جاسکے۔‘‘
’’مجھے آشا ہی نہیں، پورن وشواس ہے کہ ہمارا پرشرم اوشیہ رنگ لائے گا اور ہم اپنے مشن میں جلد ہی سپھل ہوجائیں گے۔اس کے ساتھ ہی آج کی سبھا سماپت کی جاتی ہے ۔دھنیہ واد۔‘‘
پردہ گرگیا۔
تماشا ختم ہوگیا۔ناٹک منڈلی اپنے سازو سامان سمیٹ کر کسی دوسرے شہر کی طرف روانہ ہوگئی۔ تماشائی کلا بھون سے نکل کر مختلف کیفیات و احساسا ت کے ساتھ اپنے ٹھکانوں کو لوٹنے لگے۔
کچھ لوگوں کی رفتار میں مستی اور چہرے پر سرشاری تھی۔ان کی نظریں پتلیوں سے نکل کر دوب، اگنی ، ہوا اور سمندر سے ملتی جلتی خصلتو ں والے لوگوں کی تلاش میں نکل پڑی تھیں۔
کچھ لوگوں کی رفتار سست اور سنجیدہ تھی۔ان کے چہروں پر فکر مندی اور اندیشوں کے تاثرات تن گئے تھے۔ ان کے ذہنوں میں ناٹک کے منظر، پیکر اور پہلو بار بار ابھررہے تھے۔ ہر منظر کا پس منظر بھی ابھر رہا تھا اور اس کا پیش منظر بھی۔ہر پیکر کا ہیولا دیو ہیکل کی صورت اختیار کرتا جارہا تھااور ہر پیکر اور پہلو سے پہیلیاں جھانک رہی تھیں اور ہرپہیلی اپنے حل کی طرف مبہم اشارے کررہی تھی۔
ذہن منظر، پس منظر اور پیش منظر میں رشتہ تلاش کرنے اور پیکروں، پہلوؤں اور پہیلیوں کو جاننے بوجھنے میں منہمک ہوگیا تھا۔
بہت سی باتیں یاد آرہی تھیں۔ انھیں یاد آرہا تھا کہ ساگر منتھن کا قصہ وہ نہیں تھا جسے وہ کلا بھون میں دیکھ کر آرہے تھے۔وہ منتھن تو دیوتاؤں اور راکشسوں نے مل کر کیا تھا۔ وہ منتھن بھگوان بھولے ناتھ وِ ش ہرن، نیل کنٹھ ، شیوشنکر کے کہنے پر سنسار کے کلیان کے لیے کیا گیا تھا۔اس منتھن میں ساگر کے گربھ سے صرف وِش ہی نہیں نکلا تھا بلکہ بہت سارے قیمتی رتن بھی باہر آئے تھے ۔اُن میں امرت بھی تھا۔امرت کے علاوہ ان میں دھنونتری وید تھا۔لکشمی تھی، رمبھا تھی، منٹری اور شنکھ تھے۔ گجراج اور ششی تھے، اور یہ سارے کے سارے رتن منشیہ کے کلیان کے لیے تھے۔البتہ وِش وناش کاری ضرور تھا مگر اسے بھگوان شنکر نے اپنے گلے میں اتا ر کر سنسار اور سرشٹی کو تباہ ہونے سے بچالیا تھا لیکن آج کے اسٹیج پر دکھا یا گیا منتھن تو بالکل الگ تھا۔ اس منتھن میں تو صرف ایک رتن نکلا تھا۔ وہ بھی وِش ،جسے ٹھکانے لگانے کا او پائے یہ دھونڈا گیا کہ اسے ایسے لوگوں کو پلادیا جائے جن کے دماغ اور جسم دونوں کم زور ہیں۔
انھیں یاد آرہا تھا کہ اس منتھن کے قصّے میں ایک راکشس کا سردھڑ سے اڑا دیا گیا تھا۔اس لیے کہ اس نے چھل کپٹ سے امرت پی لیا تھا۔ بھگوان شیو نے اس کا سر اس لیے قلم کردیا کہ راکشس بھی امر نہ ہوجائے۔ اس لیے کہ راکشس بدی کی علامت ہے۔ بدی اگر امر ہوگئی تو اس کے پر بھاؤ سے سنسار سنکٹ میں پڑجائے گا۔ سرشٹی نشٹ ہوجائے گی۔ منشیہ اور دیوتا اپنا صبر و سکون کھودیں کے مگر اس منتھن میں تو انسانوں کے جسم سے امرت نکالنے کی بات کی گئی تھی۔یہ کیسے چنتک تھے جنھوں نے انسانوں کو ٹھکانے لگانے، انھیں جلانے ان کے اندر زہر بونے اور ان کی سمپتی کو سماپت کرنے کا سجھاؤ دیا۔ان چنتکوں میں تو رشی منی بھی تھے۔رشی منی جومنشیہ کے کلیان اور سرشٹی کی رکشا کے لیے اپنے پران بھی تیاگ دیتے تھے۔
ان کی آنکھوں میں مہارشی دودھچی ابھرآئے۔ددھچی جنھوں نے اسروں سے سرشٹی کی رکشا کے لیے اپنے پران تیاگ کر اپنی استھیوں کے شستر گانڈیو، اجگو اور سارنگ، شنکر ، اندر اور وشنو کو سونپ دیے تھے جن کے وار سے بر تراسُر کا ودھ ہوا۔
’’یہ کیسا منتھن ہے؟ اس کے بارے میں تو کبھی سنا بھی نہیں اور نہ ہی کہیں پڑھا ۔ کہیں یہ کوئی گڑھا ہوا واقعہ تو نہیں ؟‘‘
ان میں سے ایک نے اپنے ساتھ چل رہے ساتھی سے پوچھا ؟
’’یہ تو وہی جانیں‘‘۔
اگرایسا ہے تو اس کا مقصد کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ پہلے والے نے سوال کیا۔
’’یار !ان جملوں کا اشارہ کن کی طرف تھا؟‘‘
’’کن جملوں کا ؟‘‘
’’یہی کہ وہ کون ہیں جن کی پرورتی دوب سے ملتی جلتی ہے؟‘‘
جو اگنی کی بھانتی پھیلتے ہیں۔
ہوا کے سمان بڑھتے ہیں۔
اور سمندرکی بھانتی گہرے ہیں۔
جن کے بھیتر سے امرت نکالنا ہے۔
اور جس کے لیے چنتکوں نے چیراکرن ، لنکا دہن ، سمبندھ وِچھیدن، سمپتی سماپن اور وشاروپن جیسی ودھیاں سجھائی ہیں؟
ان کے بھیتر بھی منتھن ہونے لگاتھا اور آنکھوں کے سامنے بھگوان شنکر کا ترشول کسی اور کے ہاتھ میں لہرارہا تھا کچھ لوگوں کی رفتار لڑکھڑارہی تھی۔ان کے چہروں کی سیاہی میں زردی بھی گھل گئی تھی۔
ان کے کانوں میں بار بار یہ آواز گونج رہی تھی۔
’’وِش ان لوگوں کو پلادیا جائے جن کے دماغ میں سوچنے کی شکتی نہیں ہے اور جن کا شریر کم زور تتھا سڑگل گئے ہیں۔چنتن ہین مستشک اور سڑے گلے بے کار شریر والے لوگوں کو جیوت رہنے سے اچھا ہے کہ وہ مرجائیں ۔اس سے وِش کی کھپت بھی ہوجائے گی اور اچھے دماغ اور مضبوط شریر کی رکشا بھی ہوسکے گی۔ ان کا مرنا اس لیے بھی آوشیک ہے کہ ان سے دھرتی پر سڑا ندھ پھیلنے کا خطرہ ہے۔‘‘
اور آنکھوں میں منتھن کی رسّی کھینچنے والا ایک آدمی بار بار لڑکھڑا کر زمین پر گررہا تھا
ہر قدم پر انھیں محسوس ہورہا تھا جیسے کوئی پیالہ آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھا رہا ہے۔
(مجموعہ پارکنگ ایریا ازغضنفر، ص 133)