افسانہ

سانڈ

’’یہ کیسی بھگدڑ مچی ہے بھائی؟‘‘ سورج پورگاؤں کے ایک بوڑھے نے اپنے برآمدے سے بھاگنے والوں کو مخاطب کیا — ایک نوجوان نے رُک کرہانپتے ہوئے جواب دیا۔‘‘ ’’چاچا !گاؤں میں آج سانڈ پھر گھس آیا ہے۔‘‘ ’’سانڈ پھرگھس آیاہے!‘‘بوڑھے کی سفیدلمبی داڑھی اوپرسے نیچے تک ہل اٹھی — ’’ہاں ...

مزید پڑھیے

پارکنگ ایریا

محلّے میں پہنچ گیا تھا مگراسے خالہ کا مکان نہیں مل رہا تھا۔ چارپانچ سال پہلے جب وہ بٹلہ ہاؤس آیا تھا تو گھر آسانی سے مل گیا تھا۔ خالونے اسے بس اتنا بتایا تھا کہ مکان مسجد کے پاس ہے اور آنگن میں اشوک کا ایک پیڑ کھڑا ہے۔ مسجد کے پاس پہنچ کر آنگن میں پیڑ والا مکان وہ چاروں طرف ...

مزید پڑھیے

ہاؤس ہوسٹس

ایرکنڈیشنڈ آفس میں ایزی چےئر پربھی مسٹرچوپڑادباؤ اور تناؤ لیے بیٹھے تھے۔وہ ایک نئی قسم کے بواسیر میں مبتلاتھے۔مسّے ان کے دماغ میں تھے۔جس دن مسّے زیادہ پھول جاتے مسّوں میں ہل چل سی مچ جاتی اوردباؤ سے چہرے کا تناؤ بڑھ جاتا۔ آفیسر بیگ میز پر کب سے تیارپڑا تھا مگر وہ اسے اُٹھانہیں ...

مزید پڑھیے

یہ پری چہرہ لوگ

پت جھڑ کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ بیگم بلقیس تراب علی ہر سال کی طرح اب کے بھی اپنے بنگلے کے باغیچے میں مالی سے پودوں اور پیڑوں کی کانٹ چھانٹ کرارہی تھیں۔ اس وقت دن کے کوئی گیارہ بجے ہوں گے۔ سیٹھ تراب علی اپنے کام پر اور لڑکے لڑکیاں اسکولوں کالجوں میں جا چکے تھے۔ چنانچہ بیگم صاحب ...

مزید پڑھیے

اس کی بیوی

وہ دونوں تیسری منزل کے ایک کمرے میں تھے۔ یہ چھوٹا سا کمرہ اپنی ہلکی نیلی روشنی کے ساتھ باہر سے یوں دکھائی دیتا گویا ٹرین کا کوئی ٹھنڈا ڈبہ ہے، جس طرح ریلوے والے گرمی کے موسم میں ’’فردوس سیمیں‘‘ یا ’’خواب سیمیں‘‘ وغیرہ شاعرانہ نام رکھ کر بعض خاص گاڑیوں میں جوڑ دیتے ...

مزید پڑھیے

اوور کوٹ

جنوری کی ایک شام کو ایک خوش پوش نوجوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا اور چیرنگ کراس کا رخ کر کے خراماں خراماں پٹری پر چلنے لگا۔ یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا۔ لمبی لمبی قلمیں، چمکتے ہوئے بال، باریک باریک مونچھیں گویا سرمے کی سلائی سے بنائی گئی ...

مزید پڑھیے

بردہ فروش

پنجاب کے اضلاع میں ایسے کئی چھوٹے چھوٹے قصبے ہیں جن کی آبادی تو چند سو نفوس سے زیادہ نہیں مگر جن کو ریلوے اسٹیشن ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان اسٹیشنوں پر عموماً ایک ویرانی کی سی کیفیت رہتی ہے۔ کیونکہ میل اور ایکسپرس کی قسم کی گاڑیاں تو یہاں ٹھہرنا کسر شان سمجھ کر آندھی کے تیز جھکڑ کی ...

مزید پڑھیے

مجسمہ

بادشاہ اپنی حسین و جواں سال ملکہ کو دیوانہ وار چاہتا تھا۔ ملکہ دل ہی دل میں اس کی الفت پر ناز کرتی، مگر فطرتاً وہ عورتوں کے اس غیور و خود سر طبقہ میں سے تھی جو دنیا میں کسی کو اپنی کمزوری سے باخبر کرنا اور اپنے تئیں اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا عورت کے وقار کے منافی سمجھتا ہے۔ وہ ...

مزید پڑھیے

گوندنی

مرزا برجیس قدر کو میں ایک عرصے سے جانتا ہوں۔ ہر چند ہماری طبیعتوں اور ہماری سماجی حیثیتوں میں بڑا فرق تھا۔ پھر بھی ہم دونوں دوست تھے۔ مرزا کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جو کسی زمانے میں بہت معزز اور متمول سمجھا جاتا تھا مگر اب اس کی حالت اس پرانے تناور درخت کی سی ہو گئی تھی جو ...

مزید پڑھیے

آنندی

بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خلافِ معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہ تھا۔ بلدیہ کے زیرِ بحث مسئلہ یہ تھا کہ زنان بازاری کو شہر بدر کر دیا جائے کیونکہ ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد نما داغ ہے۔ بلدیہ کے ایک بھاری بھرکم رکن جو ملک و قوم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 183 سے 233