افسانہ

تج دو تج دو!

یہ الفا٭۔۔۔۔۔ باربار اس کی سماعت کے تعاقب میں یہ الفاظ آتے رہے۔ جب وہ سونے کے لیے بستر پر دراز ہوتا اور خاموش، سنسان کمرے اور اس کی دیواروں کو تکتے تکتے تھک جاتا تو آنکھیں بند کرلیتا، پھر بند آنکھوں میں جانے کتنی صدیوں کی درمیان پھیل جاتیں، افسردگی کا تسلط ہو جاتا اس کے بعد ...

مزید پڑھیے

بابا لوگ

’’بابا لوگ سب کمرے میں آ جاؤ— ام تم کو کہانی سنائے گا!‘‘ پھر بابالوگ یہ سنتے ہی کمرے میں آ گئے اور بڈھ٘ے انکل کے مونڈھے کو یوں گھیر لیا، جیسے اکمس کی ننھی ننھی موم بتیاں ہوں جوبڑ ے سے کیک کے چاروں طرف استادہ کردی گئی ہوں۔ بڈھ٘ے انکل نے ایک بار نگاہ اٹھا کر ساتوں بچ٘وں کا جائزہ ...

مزید پڑھیے

خالد کا ختنہ

جوتقریب ٹلتی آرہی تھی،طے پاگئی تھی۔تاریخ بھی سب کو سوٹ کرگئی تھی۔پاکستان والے خالو اور خالہ بھی آگئے تھے اورعرب والے ماموں ممانی بھی۔ مہمانوں سے گھربھرگیاتھا۔ بھراہوا گھر جگمگارہاتھا۔ درودیوار پرنئے رنگ وروغن روشن تھے۔چھتیں چمکیلے کاغذ کے پھول پتوں سے گلشن بن گئی ...

مزید پڑھیے

بھِڑ

’’کیا آپ لوگوں کو ایسا نہیں لگتا کہ ہمیں بھی اس آواز پر لبیک کہنا چاہیے۔‘‘ حیرت ہے کہ جو کل تک سریندر پرکاش کی کہانی ’’باز گوئی‘‘ کے اس نظریے پر سختی سے قائم تھا کہ جب کوئی شب روزی مل جاتی ہے تو فن کار کی بانسری بند ہوجاتی ہے بلکہ ہاتھ سے چھوٹ کر گرجاتی ہے اور ظلمت کے خلاف ...

مزید پڑھیے

ایک بڑا کھیل

ریموٹ کا بٹن دبتے ہی ٹی۔وی کے اسکرین پر ایک عجیب و غریب تصویر ابھر آئی ۔ دو چہروں کے چشم و لب و رخسار آپس میں اس طرح گڈ مڈ کردیے گئے تھے کہ اس تصویر میں کئی چہروں کا گمان ہوتا تھا۔وہ لب، چشم اور رخسار تھے تو جانے پہچانے فلمی ستاروں کے مگرملائے اس طرح گئے تھے کہ صاف صاف کوئی ایک ...

مزید پڑھیے

حیرت فروش

کتابوں سے نکلتے ہی نگاہیں اشتہارں پرپڑنے لگیں۔اشتہار اور انٹرویو کے چکّرمیں وہ دربدرپھرنے لگا۔اس چکّر میں اسے چکّرآنے لگے۔آنکھوں میں اندھیرا چھانے لگا۔پاؤں لڑ کھڑانے لگے۔مگرایک دن ایک اشتہار سے اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ ’’ضرورت ہے حیرتوں کی۔ ایک ایک حیرت کا منہ ...

مزید پڑھیے

اُتّم چند والیہ

سوٹ اور ٹائی میں ملبوس گندمی رنگ کے ایک صاحب اکثر ہمارے دفتر کے کیمپس میں دکھائی دیتے ۔ خاموشی سے داخل ہوتے اور ادھر اُدھر دیکھے بغیر سیدھے پروفیسر جمال کے کمرے کی طرف بڑ ھ جاتے ۔ حسبِ معمول ایک دن وہ کیمپس میں داخل ہوئے۔ خاموشی سے جمال صاحب کے روم کی جانب بڑھے مگر جلدی ہی واپس ...

مزید پڑھیے

ڈُگڈُگی

شہرکے نکڑ پرڈُگڈُگی بج رہی تھی۔لوگ ایک ایک کرکے ڈُگڈُگی بجانے والے کے ارد گرد جمع ہوتے جارہے تھے۔ ڈُگڈُگی بجانے والا سرسے پیرتک ایک مخصوص قسم کے لباس میں ملبوس ایک لحیم شحیم آدمی تھا ۔اس کے سراورداڑھی کے بال تماشائیوں کے بال سے مختلف تھے۔رنگ برنگ کے گول گول پتھروں سے بنی ایک ...

مزید پڑھیے

محبت کے رنگ

میرے سینے کے درد کی دھمک ثمینہ کی سماعت تک پہنچ گئی۔دہکتے ہوئے انگاروں سے بھری انگیٹھی اور درد مٹانے والے تیل کی شیشی لیے شمینہ آناً فاناً میرے پاس آ دھمکی۔ ’’ ماسٹر صاحب ! بٹن کھولیے ، تیل مالش کردوں ۔‘‘ میں جھجھکا تو خود اسکی انگلیاں میری قمیض کے بٹنوں تک پہنچ گئیں۔ ’’ رہنے ...

مزید پڑھیے

کڑوا تیل

’’اس گھانی کے بعدآپ کی باری آئے گی۔ تب تک انتظار کرناپڑے گا۔‘‘ شاہ جی نے میرے ہاتھ سے تلہن کا تھیلالے کرکولھو کے پاس رکھ دیا۔ ’’ٹھیک ہے۔‘‘ میں دروازے کے پاس پڑے ایک اسٹول پربیٹھ گیا۔ کولھو کسی پائدار لکڑی کا بناتھا۔ اورکمرے کے بیچوں بیچ کچے فرش میں بڑی کاری گری اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 181 سے 233