میں جہاں بھی ہوں وہیں انجمن آرائی ہے
میں جہاں بھی ہوں وہیں انجمن آرائی ہے کہ مرے ساتھ مرا عالم تنہائی ہے حسرت آہ بھی توہین شکیبائی ہے کیا مرے درد کا مفہوم ہی رسوائی ہے نہ تجلی نہ کوئی انجمن آرائی ہے زندگی ایک مسلسل شب تنہائی ہے موت ہے قیمت ہستی کوئی انعام نہیں جان دی ہے تو حیات ابدی پائی ہے ڈھونڈھتے پھرتے ہیں ...