قومی زبان

میں جہاں بھی ہوں وہیں انجمن آرائی ہے

میں جہاں بھی ہوں وہیں انجمن آرائی ہے کہ مرے ساتھ مرا عالم تنہائی ہے حسرت آہ بھی توہین شکیبائی ہے کیا مرے درد کا مفہوم ہی رسوائی ہے نہ تجلی نہ کوئی انجمن آرائی ہے زندگی ایک مسلسل شب تنہائی ہے موت ہے قیمت ہستی کوئی انعام نہیں جان دی ہے تو حیات ابدی پائی ہے ڈھونڈھتے پھرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

نئی زندگی کی ہوا چلی تو کئی نقاب اتر گئے

نئی زندگی کی ہوا چلی تو کئی نقاب اتر گئے جنہیں انقلاب سے پیار تھا وہی انقلاب سے ڈر گئے مجھے رہبروں سے ہے یہ گلہ کہ انہیں شعور سفر نہ تھا کبھی راستوں میں الجھ گئے کبھی منزلوں سے گزر گئے تجھے مرگ نو کی تلاش ہے مگر ارتقا کا پتہ نہیں کوئی ایک شکل جو مٹ گئی تو ہزار نقش ابھر گئے جسے ...

مزید پڑھیے

کبھی خرد کا کبھی عشق کا بہانا تھا

کبھی خرد کا کبھی عشق کا بہانا تھا مری حیات کا مقصد فریب کھانا تھا تری نگاہ کو گہرائیوں میں جانا تھا مرے سکوت کی ہر تہہ میں اک فسانا تھا چمن کے ایک ہی گوشے میں ہے ہجوم بہار یہ وہ جگہ ہے جہاں میرا آشیانہ تھا خزاں کا خوف تھا غنچوں کو فصل گل میں مگر وہ مسکرا کے رہے جن کو مسکرانا ...

مزید پڑھیے

پھر تلاش راحت میں درد کا پیام آیا

پھر تلاش راحت میں درد کا پیام آیا ہم جہاں سے گزرے تھے پھر وہی مقام آیا تیرے غم کی راہوں میں وہ بھی اک مقام آیا موت کی تمنا تھی موت کا سلام آیا شب گزارنے والو حاصل سحر کیا تھا اک پیام بیداری وہ بھی نا تمام آیا یوں عروج پر آئی داستاں محبت کی دل کا ذکر چھیڑا تھا لب پہ ان کا نام ...

مزید پڑھیے

دل ہے ایک ہی لیکن نام دل بدلتا ہے

دل ہے ایک ہی لیکن نام دل بدلتا ہے سج گیا تو گلشن ہے لٹ گیا تو صحرا ہے میرا درد محرومی اک نیا تقاضا ہے عشق رائیگاں کیوں ہو تم نہیں تو دنیا ہے حسن ہے بہاریں ہیں شوق ہے تماشا ہے عاشقی کی نسبت سے زندگی گوارا ہے درد و غم کی راہوں میں ساتھ چھوڑنا کیسا دور تک چلے آؤ دور تک اندھیرا ...

مزید پڑھیے

یہ عالم ہے تو پھر کیوں ہوں حوادث سے پریشاں ہم

یہ عالم ہے تو پھر کیوں ہوں حوادث سے پریشاں ہم قفس ہم آشیاں ہم خار ہم گل ہم گلستاں ہم ہمیں دنیا کی طوفانی ہواؤں میں بھڑکنے دو نہیں ہوں گے نہیں ہوں گے چراغ زیر داماں ہم مزا پایا ہے اتنا مشکلات زندگانی میں کہ دیکھے جائیں گے تا حشر یہ خواب پریشاں ہم زمانہ ہم کو طوفاں میں پھنسا کر ...

مزید پڑھیے

سحر ہوتے ہی اہل انجمن کو نیند سی آئی

سحر ہوتے ہی اہل انجمن کو نیند سی آئی اندھیرے اور گہرے ہو گئے جب روشنی آئی دم سیر چمن اکثر یہ منظر ہم نے دیکھا ہے جدھر تم تھے ادھر پھولوں کے رخ پر تازگی آئی سوائے شورش پرواز سب کچھ ہے گلستاں میں بہار آئی مگر اک دام پھیلاتی ہوئی آئی ابھی تک موت سے ملتا ہوا اک نشہ طاری تھا تم آئے ...

مزید پڑھیے

گزر جا راہ و منزل سے گزر جا موج و ساحل سے

گزر جا راہ و منزل سے گزر جا موج و ساحل سے محبت ہو تو یہ آسانیاں ملتی ہیں مشکل سے مقابل ہو گیا نادان ان کے حسن کامل سے ہمیں اب تنگ آ کر ہاتھ اٹھانا ہی پڑا دل سے دل ان کی راہ میں ہے پھر بھی غم جاتا نہیں دل سے محبت کا مسافر بے خبر ہے اپنی منزل سے تم اہل دل نہیں ہو پھر وفا کا لطف کیا ...

مزید پڑھیے

ہم نے رستے میں کوئی شمع جلا دی ہوتی

ہم نے رستے میں کوئی شمع جلا دی ہوتی دور سے ہی جو کبھی تم نے صدا دی ہوتی میرے سب گیت تمہارے ہی لیے ہیں شاید تم نے ان گیتوں میں آواز ملا دی ہوتی تم نے تو کچھ بھی نہ کہنے کی قسم کھائی تھی بات جو دل میں تھی ہم نے ہی بتا دی ہوتی بھیگ جانی تھیں اس طرح تمہاری پلکیں وہ کہانی جو تمہیں ہم نے ...

مزید پڑھیے

تڑپ الم میں نہیں ہے سکوں خوشی میں نہیں

تڑپ الم میں نہیں ہے سکوں خوشی میں نہیں بہت دنوں سے کوئی لطف زندگی میں نہیں اگر یہ سچ ہے تو لازم ہے خود فراموشی خود آگہی کے سوا کچھ خود آگہی میں نہیں جمی ہوئی ہے شب ہجر آسماں پہ نظر تری جھلک تو ستاروں کی روشنی میں نہیں جو اہل دل ہو تو مفہوم خامشی سمجھو یہ کیا کہا کوئی مفہوم خامشی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 944 سے 6203