قومی زبان

مہکا ہے گل خون وفا جانیے کیا ہو

مہکا ہے گل خون وفا جانیے کیا ہو جلتی ہے کوئی شمع حنا جانیے کیا ہو بندش ہے نگاہوں پہ دل و جاں پہ ہیں پہرے تعبیر تری خواب وفا جانیے کیا ہو مدت سے کسی زلف کی خوشبو نہیں آتی مصروفیت دست صبا جانیے کیا ہو شعلہ سا لپکتا ہے کوئی روزن در سے خنداں ہے پھر اک بنت حیا جانیے کیا ہو ٹھہری ہے ...

مزید پڑھیے

دل نے یوں حوصلۂ نالہ و فریاد کیا

دل نے یوں حوصلۂ نالہ و فریاد کیا میں یہ سمجھا شب غم تم نے کچھ ارشاد کیا جبر فطرت نے یہ اچھا کرم ایجاد کیا کہ مجھے وسعت زنجیر تک آزاد کیا تم نہ تھے دل میں تو ویراں تھی کہانی میری عشق نے لفظ کو مفہوم سے آباد کیا تیرا انداز تبسم ہے کہ عنوان بہار جب کوئی پھول کھلا میں نے تجھے یاد ...

مزید پڑھیے

یہ کیوں کہوں کہ انہیں حال دل سنا نہ سکا

یہ کیوں کہوں کہ انہیں حال دل سنا نہ سکا نظر میں تھا وہ فسانہ جو لب تک آ نہ سکا مجھے کبھی خلش دل کا لطف آ نہ سکا نظر اٹھی بھی تو ان سے نظر ملا نہ سکا گناہ گار محبت کو سب نے بخش دیا کہ یہ گناہ کسی کی سمجھ میں آ نہ سکا مرے خیال میں تخلیق دل کا راز یہ ہے کہ عشق وسعت کونین میں سما نہ ...

مزید پڑھیے

اس نظر سے جو رابطہ ہو جائے

اس نظر سے جو رابطہ ہو جائے کچھ نہ ہونا بھی حادثہ ہو جائے وہ کریں التجا میں ترک کروں مجھ کو اک ایسا تجربہ ہو جائے یوں نہ ہو پھر ہو تیرا قرب نصیب یوں نہ ہو پھر یہ سانحہ ہو جائے نام لیتے ہی دل دھڑکتا ہے سامنے آئے وہ تو کیا ہو جائے کام کتنا ہے اس کی یادوں کا آج پھر سے نہ رتجگا ہو ...

مزید پڑھیے

مسلسل بے قراری چل رہی ہے

مسلسل بے قراری چل رہی ہے اداسی کی سواری چل رہی ہے یہ آنسو ضبط کھو بیٹھے ہیں کیوں کر یہ کس کی غم گساری چل رہی ہے امیدوں کے پڑے تھے بیج دل میں وہیں پر آبیاری چل رہی ہے لبوں پر رہ گیا اک نام آ کر کسی کی پاسداری چل رہی ہے عداوت ہو گئی ہے ہر خوشی سے غموں سے اپنی یاری چل رہی ہے

مزید پڑھیے

یاد کی پوٹلی نکلتی ہے

یاد کی پوٹلی نکلتی ہے رات سے روشنی نکلتی ہے مشکلیں راہ بھی دکھاتی ہیں پتھروں سے ندی نکلتی ہے چاہے جتنا بھی وہ مکمل ہو آدمی میں کمی نکلتی ہے سوچتی ہوں جو تیری باتوں کو بیٹھے بیٹھے ہنسی نکلتی ہے جب بھی دل کی تلاشی لیتی ہوں تیری خواہش چھپی نکلتی ہے استفادہ ہے ساتھ چلنے میں بات ...

مزید پڑھیے

کسی کی یاد آفت ڈھا رہی ہے

کسی کی یاد آفت ڈھا رہی ہے طبیعت خود بخود گھبرا رہی ہے چلا ہوں اس نظر کی جستجو میں جہاں دل ہے وہ منزل آ رہی ہے محبت کو نہیں سمجھی ہے اب تک مگر دنیا ہمیں سمجھا رہی ہے یہی ہے کیا محبت کا زمانہ زمانے پر اداسی چھا رہی ہے انہیں جی بھر کے اب دیکھیں گے شاہدؔ یہ سنتے ہیں قیامت آ رہی ہے

مزید پڑھیے

بقدر شوق مزا اضطراب کا نہ ملا

بقدر شوق مزا اضطراب کا نہ ملا کہ دل کو درد ملا بھی تو لا دوا نہ ملا کہاں پہنچ کے ہوا ہے ملال گمشدگی یہ سن رہا ہوں کہ ان کو مرا پتا نہ ملا مزا ملا تھا محبت کی ابتدا میں مگر پھر اس کے بعد اذیت ملی مزا نہ ملا بہت قریب تھی سرحد بے خودی لیکن خودی کی حد میں بھٹکتے رہے خدا نہ ملا جبین ...

مزید پڑھیے

ممکن نہیں کہ فیض جنوں رائیگاں رہے

ممکن نہیں کہ فیض جنوں رائیگاں رہے یہ بھی تو اک نشاں ہے کہ ہم بے نشاں رہے عاجز تری تلاش میں کون و مکاں رہے اب جو تجھے تلاش کرے وہ کہاں رہے بے واسطہ نظارۂ شان جمال کر یہ بھی ہے اک خطا کہ نظر درمیاں رہے توفیق دے کہ پیش کروں غم کو اس طرح دنیا کو میرے غم پہ خوشی کا گماں رہے شام ان کی ...

مزید پڑھیے

وفا کی راہ سے مستانہ وار ہم گزرے

وفا کی راہ سے مستانہ وار ہم گزرے ہزار منزلیں آئیں ہزار غم گزرے حیات سلسلۂ غم سہی مگر اے دوست خیال میں ہیں وہی حادثے جو کم گزرے خوشی کے پھول کھلائے تھے اس نظر نے جہاں ہم اس دیار سے اکثر بہ چشم نم گزرے ستم زدہ سی ہے دنیا تمہارے جانے سے کہیں تو کس سے کہیں ہم پہ کیا ستم گزرے کھڑے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 943 سے 6203