مہکا ہے گل خون وفا جانیے کیا ہو
مہکا ہے گل خون وفا جانیے کیا ہو جلتی ہے کوئی شمع حنا جانیے کیا ہو بندش ہے نگاہوں پہ دل و جاں پہ ہیں پہرے تعبیر تری خواب وفا جانیے کیا ہو مدت سے کسی زلف کی خوشبو نہیں آتی مصروفیت دست صبا جانیے کیا ہو شعلہ سا لپکتا ہے کوئی روزن در سے خنداں ہے پھر اک بنت حیا جانیے کیا ہو ٹھہری ہے ...