اے باغباں یہ جبر ہے یا اختیار ہے
اے باغباں یہ جبر ہے یا اختیار ہے مرجھا رہے ہیں پھول چمن میں بہار ہے شاید اسی کا نام غم روزگار ہے وہ مل گئے تو اور بھی دل بے قرار ہے میں صاحب چمن ہوں مجھے اعتبار ہے شام خزاں کے بعد ہی صبح بہار ہے رہبر نے قافلے ہی کو مجبور کہہ دیا اب وہ قدم بڑھائے جسے اختیار ہے کلیاں ہیں زرد زرد ...