قومی زبان

دیدہ و دل میں اتر جاتا ہے

دیدہ و دل میں اتر جاتا ہے ہر عذاب آ کے ٹھہر جاتا ہے کوئی جی اٹھتا ہے مجھ میں ہر روز روز مجھ میں کوئی مر جاتا ہے یہ ملاقات ہے چوراہے کی دیکھیے کون کدھر جاتا ہے فکر گھر کی ہو تو وحشت چھوٹے کار وحشت ہو تو گھر جاتا ہے رات کس طرح مری جاں گزرے دن تو دفتر میں گزر جاتا ہے یہ جو طوفان ہے ...

مزید پڑھیے

دو ٹوک

شادی کے چند روز تو چھیڑی نہ کوئی بات حائل ہمارے بیچ رہے کچھ تکلفات پھر ایک دن جو ان سے مری گفتگو ہوئی دو ٹوک بات چیت ہوئی دو بدو ہوئی پوچھا کہ ناشتے کا کوئی انتظام ہے بولیں مجھے پتا ہو تو مجھ پر حرام ہے میں نے کہا کہ چائے کی پیالی عطا کریں کہنے لگیں کہ بات نہ ایسی کیا کریں میں نے ...

مزید پڑھیے

یہ شاخ سبز جو پیلی ہوئی ہے

یہ شاخ سبز جو پیلی ہوئی ہے ہر اک موسم میں تبدیلی ہوئی ہے ہوئی ہے شخصیت بے آب اپنی فقط پوشاک بھڑکیلی ہوئی ہے کیا جب بھی نظر انداز غم کو گرفت غم بہت ڈھیلی ہوئی ہے لگی ہے آگ جب بھی جھونپڑی میں تو دشمن ایک اک تیلی ہوئی ہے ہر اک آزاد ہے پابند سا کچھ گھٹاؤں میں ہوا سیلی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اپنے دفتر سے نکلتے ہیں تو گھر جاتے ہیں

اپنے دفتر سے نکلتے ہیں تو گھر جاتے ہیں لوگ جینے کی تگ و دو میں بھی مر جاتے ہیں رات بھر ہوتے ہیں کس طرح نہ جانے یکجا صبح دم شہر کی سڑکوں پہ بکھر جاتے ہیں شاخ گل کتنی ہی فصلوں کے اٹھاتی ہے عذاب رنگ و بو پھول میں یوں ہی نہیں بھر جاتے ہیں حادثے رہتے ہیں یوں عمر رواں کے ہم راہ جیسے ...

مزید پڑھیے

بے مقصد خاکے مبہم تصویریں ہیں

بے مقصد خاکے مبہم تصویریں ہیں کاغذ پر کچھ نا معلوم لکیریں ہیں اک دریا میں اٹھتی ہیں لاکھوں موجیں اک انساں ہے اور کتنی تصویریں ہیں اچھا چہرہ اکثر دھوکا دیتا ہے عمدہ کاغذ پر گھٹیا تحریریں ہیں ان کی نظمیں خوب مرے اشعار فضول خواب ہیں یکساں الگ الگ تعبیریں ہیں عہد حاضر کا وحشی ...

مزید پڑھیے

ہر تماشا چند لمحوں میں پرانا ہو گیا

ہر تماشا چند لمحوں میں پرانا ہو گیا رفتہ رفتہ بند پھر اک اک دریچہ ہو گیا جانے کس جانب سے سورج کی کرن مجھ پر پڑی میرا سایا میرے قامت سے بھی اونچا ہو گیا آگہی اور عاشقی دیوانگی اور مے کشی تجربہ بائیس برسوں میں بہت سا ہو گیا یہ سزائے شوق ہے یا قیمت خود آگہی دل ہوا پر نور تو بے نور ...

مزید پڑھیے

ایسا محسوس کر رہا ہوں میں

ایسا محسوس کر رہا ہوں میں جیسے اس شہر میں نیا ہوں میں اپنی خوشبو سے خوف آتا ہے کن ہواؤں میں گھر گیا ہوں میں تیری کچھ اور بات ہے ورنہ ساتھ اپنے بھی کم رہا ہوں میں خال و خد پہ نہ اپنے غور کرو مجھ سے روٹھو کہ آئنہ ہوں میں اف یہ کیف فسانہ ہائے جنوں لکھ رہا ہوں مٹا رہا ہوں میں کوئی ...

مزید پڑھیے

ہر بدلتے ہوئے منظر میں رہو

ہر بدلتے ہوئے منظر میں رہو نئی الجھن نئے چکر میں رہو رابطہ گھر سے رہے باہر کا کسی روزن کی طرح گھر میں رہو رات بھر سیر کرو دنیا کی رات بھر اپنے ہی بستر میں رہو حادثو دل میں بسا لوں تم کو سانحو آؤ مرے گھر میں رہو ہر نفس دفتر احساس لکھو ہر گھڑی عرصۂ محشر میں رہو حسن سڑکوں کا ...

مزید پڑھیے

آب و ہوا تو آ نہ سکی اختیار میں

آب و ہوا تو آ نہ سکی اختیار میں کاغذ کے پھول ہم نے سجائے بہار میں گہرائیوں سے دل کی ابھرتا ہے حرف حرف تفصیل کم نہیں ہے مرے اختصار میں احساس کیا دلائیں ہم اپنے وجود کا ہم سے نہ جانے کتنے لگے ہیں قطار میں ہم کر رہے ہیں تلخ حقیقت کا سامنا یہ جانتے ہوئے کہ سکوں ہے فرار میں یہ اور ...

مزید پڑھیے

محو تکرار سود و زیاں ہیں

محو تکرار سود و زیاں ہیں اک شجر کی کئی ٹہنیاں ہیں شمع شب بھر جلائی بجھائی فرش پر جا بجا تیلیاں ہیں چند تنکوں کی اپنی طلب تھی اب چمن در چمن بجلیاں ہیں کھل رہے ہیں بھرم چاہتوں کے قربتوں میں سوا دوریاں ہیں شب کے ہاتھوں میں اب تک منورؔ دامن صبح کی دھجیاں ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 835 سے 6203