قومی زبان

پہلے طعام پھر کلام

حلقۂ فکر و سخن نے مجھے عزت بخشی یعنی مہمان خصوصی کی فضیلت بخشی مسند عالی پہ لا کر جو بٹھایا مجھ کو قد کوتاہ کو اس طور سے رفعت بخشی فائدہ یہ بھی ہوا آج کی اس محفل میں ایک دوجے سے ملاقات کی صورت بخشی قابل عزت و تکریم خواتین بھی ہیں ان کے ہونے نے مری روح کو فرحت بخشی پورا دیوان ہی ...

مزید پڑھیے

شاعر کا لخت جگر

میرے گھر میں تو جو اے نور نظر پیدا ہوا خوش نصیبی ہے تری شاعر کے گھر پیدا ہوا تیری بہنیں اور بھائی سب کے سب ہیں نابکار ایک لشکر گو کہ تجھ سے پیشتر پیدا ہوا ذوق شعر و شاعری بالکل کسی میں بھی نہیں ان میں سے ہر ایک بس جیسے صفر پیدا ہوا باپ کے نقش قدم پر تو چلے گا ہے یقیں میرے جیسا دیدہ ...

مزید پڑھیے

کھایا پیا کچھ نہیں

ہوٹل میں کل گئے تو یہ سوچا کہ کھائیں کیا بیگم سے ہم نے پوچھا کہ بولیں منگائیں کیا بولیں سکھانے کے لیے کیا یہ کنیز ہے ہوٹل میں آ گئے ہیں مگر کچھ تمیز ہے ہوٹل کا احترام کریں کچھ ادب کریں لازم ہے سب سے پہلے تو مینو طلب کریں انگلی کے اک اشارے سے ویٹر بھی آ گیا مینو جو ہاتھ میں تھا وہ ...

مزید پڑھیے

جشن مسرت

ہمارے ساتھ والے گھر میں لگتا ہے دوالی ہے در و دیوار پر ہے رنگ و آرائش مثالی ہے لگا ہے باغباں بھی رات دن اس کی سجاوٹ میں نئے پودے لگے مہکی ہوئی پھولوں کی ڈالی ہے ہے مہمانوں سے رونق کس قدر ان کے یہاں دیکھو یہ خالہ ہیں وہ خالو ہیں یہ سالا ہے وہ سالی ہے کوئی گھر میں ہی گھنٹوں سے لگی ہے ...

مزید پڑھیے

منی تیرے دانت کہاں ہیں

بچپن میں جو نظم پڑھی تھی میں نے ایک رسالے میں عنواں اس کا بسا ہوا ہے اب تک یاد کے جالے میں منی سے پوچھا تھا کسی نے منی تیرے دانت کہاں ہیں اس کی بھولی بھالی باتیں دیکھو بچو درج یہاں ہیں بے دانتوں کا منہ منی نے تھوڑا سا پھر کھولا تھا آنسو بھر کے آنکھوں میں پھر دکھیاری نے بولا ...

مزید پڑھیے

تعلیم و تربیت

باپ نے بیٹے کو بلوا کر یہ پوچھا کیا ہوا امتحاں کا آج ہی تو تھا نتیجہ کیا ہوا یہ کہا بیٹے نے فوراً اپنا سینہ تان کر آپ خوش ہوں گے یقیناً یہ حقیقت جان کر کم ہی کرتے ہیں کیا جو آپ کی اولاد نے سامنے سب کے کہا مجھ سے مرے استاد نے ہم تمہیں جانے نہ دیں گے اس جماعت سے ابھی تم ہی رونق ہو ...

مزید پڑھیے

زندگی دشت بے حدود میں ہے

زندگی دشت بے حدود میں ہے اک عدم سا مرے وجود میں ہے شاعری عاشقی و مے نوشی ہر خرابی مری نمود میں ہے ایک دل میں ہیں تہ بہ تہ سو غم ایک جاں کتنی ہی قیود میں ہے شہر و صحرا میں ہو رہی ہے تمیز اب جنوں ہوش کی حدود میں ہے وہ نہیں ہے جو آ رہا ہے نظر اک وجود اور ہر وجود میں ہے

مزید پڑھیے

دامن شب میں ستارے چمکے

دامن شب میں ستارے چمکے ناامیدی میں سہارے چمکے جو کبھی باعث رسوائی تھے اب وہی داغ ہمارے چمکے ایک خورشید ڈھلا سینے میں سر مژگاں کئی تارے چمکے بحر کس شان سے پایاب ہوا ہم جو ڈوبے تو کنارے چمکے مہر ابھرا تو سبھی روشن تھے کون سے آپ ہی نیارے چمکے عاشقی در بدری نغمہ گری ہم سے یہ ...

مزید پڑھیے

بدل بدل کے وہی صورتیں دکھائے کہیں

بدل بدل کے وہی صورتیں دکھائے کہیں یہ عہد نو بھی پرانے ہی دکھ نہ لائے کہیں پھر اس کے حسن کی رنگت نہ ہو بہاروں میں پھر اس کی زلف کی خوشبو ہوا نہ لائے کہیں نگاہ رک گئی کس پر کہ پھر ہٹی ہی نہیں قدم اکھڑ گئے ایسے کہ جم نہ پائے کہیں بہت ہے رند خرابات آج کل ہشیار کہ مے پئے یہ کہیں اور ...

مزید پڑھیے

کر کے شکایت غم حالات مت گنوا

کر کے شکایت غم حالات مت گنوا برسوں کے بعد کی یہ ملاقات مت گنوا عرفان کائنات بھی اظہار ذات ہے اے بے شعور اپنے مفادات مت گنوا موقع ملا تجھے تو لگا تو بھی قہقہے ہاتھ آئے ہیں جو سکھ کے یہ لمحات مت گنوا دفتر کے بعد بھی وہی دفتر کا تذکرہ دن تو گنوا دیا ہے مگر رات مت گنوا موسم کا خاک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 834 سے 6203