قومی زبان

حق جتانے کا بھی تجھ میں حوصلہ نہیں رہا

حق جتانے کا بھی تجھ میں حوصلہ نہیں رہا عشق ہی نہیں رہا یا پھر گلہ نہیں رہا تیری یادیں ہی سبب ہے میری اس ہنسی کا اب یعنی یادوں میں میں آنسو بھی ملا نہیں رہا تجھ میں ہی ہے میری روشنی کا حل وگرنہ پھر اک ستارہ ہوں تو کیوں میں جھلملا نہیں رہا مطمئن ہے باغباں بھی جان کر کہ باگ ...

مزید پڑھیے

برسوں پہلے چلتے چلتے یوں ہی اٹھا لایا

برسوں پہلے چلتے چلتے یوں ہی اٹھا لایا کالی راتوں سے میں اک روشنی اٹھا لایا عشق کو وہیں چھوڑ آیا میں حال پر اس کے عشق میں سے پر اپنی بندگی اٹھا لایا سرخ سے کسی کپڑے کو لپیٹے آئی شام مانو آسماں اس کی اوڑھنی اٹھا لایا پوچھی جب مثال اس کے حسن کی کسی نے تو پھول کی میں نازک سی پنکھڑی ...

مزید پڑھیے

تیرے پاس ہوں پر تجھ سے امان کا ڈر ہے

تیرے پاس ہوں پر تجھ سے امان کا ڈر ہے عشق ہو رہا ہے اب یعنی جان کا ڈر ہے خامشی بھی دل میں کچھ اس طرح سے ہے قائم مانو لفظوں کو میرے اب زبان کا ڈر ہے اب یہاں قیامت کا تو نہیں ہے کوئی ڈر پر جہان کو تو خود اس جہان کا ڈر ہے ڈر تو ہر کسی کو لگتا ہے جنگ سے یعنی ڈر وہی ہے تیروں کا جو کمان کا ...

مزید پڑھیے

تمہاری بزم میں جو لوگ جا کے بیٹھے ہیں

تمہاری بزم میں جو لوگ جا کے بیٹھے ہیں نصیب داؤ پہ اپنا لگا کے بیٹھے ہیں یہ دو جہان کے افراد وقت کے ہیں غلام بڑے بڑوں کو بھی ہم آزما کے بیٹھے ہیں مدد کے واسطے آئے گا کون دیکھنا ہے ہم اپنا درد سبھی کو سنا کے بیٹھے ہیں ہے مطلبی یہ زمانہ کسی کا کوئی نہیں دیا امید کا پھر بھی جلا کے ...

مزید پڑھیے

عشق کی آئنہ سامانی دیکھ

عشق کی آئنہ سامانی دیکھ آ مرا عالم حیرانی دیکھ حیرتی سوز محبت کا نہ بن اپنے جلوؤں کی درخشانی دیکھ لالہ و سرو و سمن کے طالب میرے اشکوں کی گل افشانی دیکھ راز تعمیر سمجھنے کے لئے در و دیوار کی ویرانی دیکھ جانب طور نہ جا اے شارقؔ آ مری سوختہ سامانی دیکھ

مزید پڑھیے

رنگینیٔ بہار تمنا لئے ہوئے

رنگینیٔ بہار تمنا لئے ہوئے بیٹھا ہوں دل میں شوق کی دنیا لئے ہوئے یہ غیرت جنوں کو گوارا نہیں کہ میں اٹھوں ترے کرم کا سہارا لئے ہوئے تاب نگاہ ساز وفا سوز زندگی اٹھا ہوں تیری بزم سے کیا کیا لئے ہوئے کھاتے رہے فریب سنبھلتے رہے قدم چلتے رہے جنوں کا سہارا لئے ہوئے شارقؔ ادھر ہے ...

مزید پڑھیے

خلش نہاں کی وہ لذتیں تمہیں یاد ہوں کہ نہ یاد ہوں

خلش نہاں کی وہ لذتیں تمہیں یاد ہوں کہ نہ یاد ہوں وہ نفس نفس میں قیامتیں تمہیں یاد ہوں کہ نہ یاد ہوں کبھی قربتوں میں یہ دوریاں کہ زبان دل کی نہ کہہ سکے کبھی دوریوں میں بھی قربتیں تمہیں یاد ہوں کہ نہ یاد ہوں وہ جنون شوق کی مستیاں وہ نیاز و ناز کی گرمیاں وہ نظر نظر میں حکایتیں تمہیں ...

مزید پڑھیے

جب ہجوم غم سے جی گھبرا گیا

جب ہجوم غم سے جی گھبرا گیا جانے کیوں لب پر ترا نام آ گیا آہ شارقؔ اب مری حالت نہ پوچھ دل دہی سے اور وہ تڑپا گیا دل پہ جو گزرے وہ سہہ لیتا ہوں میں اب مجھے ہر زہر پینا آ گیا آب دیدہ جب نظر آیا کوئی یاد اک بھولا فسانہ آ گیا بجلیوں میں گھر کے اے شارقؔ ہمیں آشیانے کا بنانا آ گیا

مزید پڑھیے

ترے بغیر ہے اب یہ مری خوشی اے دوست

ترے بغیر ہے اب یہ مری خوشی اے دوست خوشی ملے نہ مجھے عمر بھر کبھی اے دوست ترا خیال تھا مقصود زندگی اپنا تری طلب تھی اندھیرے میں روشنی اے دوست اب اس کے بعد کسے آرزو ہے جینے کی تری نگاہ کرم تک تھی زندگی اے دوست تری جدائی میں اکثر یہ سوچتا ہوں میں نہ جانے کیسے کٹے گی یہ زندگی اے ...

مزید پڑھیے

گزرنے کو تو شارقؔ اپنی ہر عالم میں گزری ہے

گزرنے کو تو شارقؔ اپنی ہر عالم میں گزری ہے وہی ہے زندگی لیکن جو ان کے غم میں گزری ہے وہ افتاد خزاں ہو یا بہاروں کی جنوں خیزی قیامت ہے پہ سچ پوچھو تو ہر موسم میں گزری ہے وہ کوئی اور ہوں گے خواہش امن و سکوں والے یہاں تو عمر ساری کاوش پیہم میں گزری ہے نہ پوچھ اے ہم نشیں کیا سانحے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 808 سے 6203