قومی زبان

مولانا محمد علی مرحوم جوہرؔ

سحر کے جھٹپٹے میں گا رہی تھی رات کی لیلیٰ چمن میں بج رہا تھا سطوت رفتہ کا اک تارہ منقش تھیں فضا میں جا بجا انوار کی شکلیں مجھے پیغام جلوہ دے رہی تھیں سرمگیں آنکھیں فلک پر لکۂ ابر سبک رفتار رقصاں تھا بہشت‌ حسن تھا دنیا کی برنائی کا ہر ذرہ ابھی چھیڑا نہ تھا دل نے مرے افسانۂ ...

مزید پڑھیے

یہ بتا مجھے تیرا ہم سفر نہیں ہے کیا

یہ بتا مجھے تیرا ہم سفر نہیں ہے کیا کوئی بھی زمانے میں معتبر نہیں ہے کیا چند روز رہنا ہے پھر یہاں سے جانا ہے زندگی تو ہے لیکن مختصر نہیں ہے کیا جو ہماری چوکھٹ پر آج تک نہیں بیٹھا یہ بتائیے ہم کو در بدر نہیں ہے کیا مت سناؤ تم اس کو حال دل مرا کوئی وہ مری محبت سے با خبر نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

اے میرے عشق مجھے اور بیقرار نہ کر

اے میرے عشق مجھے اور بیقرار نہ کر وہ بے وفا ہے محبت کی حد کو پار نہ کر بغور دیکھ مجھے تو اے سنگ دل دنیا میں ایک پھول ہوں اس طرح سنگسار نہ کر وہ بے وفا ہے نہیں جب اسے کوئی پرواہ تو اپنے ذہن پہ تو بھی اسے سوار نہ کر عجب یہ دل ہے نہیں مانتا مرا کہنا میں اس سے روز یہ کہتا ہوں انتظار نہ ...

مزید پڑھیے

بہت سکون سے دل میں بسا کے لے آئے

بہت سکون سے دل میں بسا کے لے آئے ہم آج ان کو انہیں سے چرا کے لے آئے وہ وار کرتے رہے مسکرا کے نظروں کا ہم اپنی جان سلامت بچا کے لے آئے ہمیں خبر تھی کہ آئینے کی طرح ہے وہ دل تھا پتھروں میں مگر ہم اٹھا کے لے آئے سوال یہ تھا کہ ثابت کرو وفاداری تو ہم ہتھیلی پہ یہ سر سجا کے لے آئے جہاں ...

مزید پڑھیے

عجیب راہ گزر ہے بہت اکیلا ہوں

عجیب راہ گزر ہے بہت اکیلا ہوں مجھے بھٹکنے کا ڈر ہے بہت اکیلا ہوں کوئی نظر نہیں آتا ہے ہم مزاج مجھے یہی تو درد جگر ہے بہت اکیلا ہوں وہ ایک شخص جو بچھڑا ہے اک زمانے سے اسے بھی اس کی خبر ہے بہت اکیلا ہوں یہ اور بات کھڑا ہوں ہزاروں لوگوں میں یقین دل کو مگر ہے بہت اکیلا ہوں وہ دیکھ ...

مزید پڑھیے

در سے مایوس ترے طالب اکرام چلے

در سے مایوس ترے طالب اکرام چلے کیسی امید لئے آئے تھے ناکام چلے او مری بزم تمنا کے سجانے والے لطف کر لطف کہ دنیا میں ترا نام چلے چھین لے چرخ ستم گار سے انداز خرام کچھ اگر زور ترا گردش ایام چلے ایک وہ ہیں کہ ترا لطف و کرم ہے جن پر ایک ہم ہیں کہ تری بزم سے ناکام چلے عزم راسخ نے بھی ...

مزید پڑھیے

درد میں جب کمی سی ہوتی ہے

درد میں جب کمی سی ہوتی ہے دل تڑپتا ہے آنکھ روتی ہے وصل کی رات رات ہوتی ہے قلب بیدار آنکھ سوتی ہے سامنے ان کے لب نہیں کھلتے بند گویا زبان ہوتی ہے ایک قطرہ ہے ان کی مژگاں پر یا کوئی لا جواب موتی ہے بحر الفت میں کشتئ دل کو موج امید ہی ڈبوتی ہے آنکھ کہتی ہے غم کے افسانے ایک ایسی ...

مزید پڑھیے

اس قدر پائمال ہیں ہم لوگ

اس قدر پائمال ہیں ہم لوگ آپ اپنی مثال ہیں ہم لوگ بے نیاز ملال ہیں ہم لوگ لاکھ صید زوال ہیں ہم لوگ اپنے عصیاں کی شرمساری سے پیکر انفعال ہیں ہم لوگ اک فسانہ ہے شوکت ماضی دیکھ لو خستہ حال ہیں ہم لوگ بت کدے میں اذاں نہ دیں تو سہی یادگاری بلال ہیں ہم لوگ کیوں پریشاں ہے اے دل ...

مزید پڑھیے

کوئی کیا جانے اس کے حسن کی دنیا کہاں تک ہے

کوئی کیا جانے اس کے حسن کی دنیا کہاں تک ہے وہیں تک دیکھ سکتا ہے نظر جس کی جہاں تک ہے تڑپتا ہوں کسی کی یاد میں اور یہ سمجھتا ہوں یہ بے چینی محبت کی فقط عمر رواں تک ہے خلش بڑھتی چلی جاتی ہے ہر لحظہ نگاہوں کی خدا جانے ہمارے شوق کا عالم کہاں تک ہے لگی ہے آگ سینے میں مگر یہ سوچ کر چپ ...

مزید پڑھیے

رفیق نادیدہ

اک ندا آئی بہت دور سے کانوں میں مرے پھر خیال آیا کہ یہ وہم مرا ہو شاید میرے الجھے ہوئے خوابوں کے صنم خانے ہیں میرے انفاس کی موہوم صدا ہو شاید میں تصور کے خلاؤں میں بھٹکتا ہوں سدا شبنمی سوچ کی راس آتی نہیں مجھ کو ہوا جو مرے شوق تکلم کی طلب گار نہ ہو اس سے قربت کی تمنا کا تقاضا بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 807 سے 6203