قومی زبان

اکیلا درخت

دوگھنٹے کی مسلسل بارش کے بعد مطلع بالکل صاف ہوگیا اور چودہویں رات کی چاندنی میں مری کی دور دور تک پھیلی ہوئی پہاڑیاں دوشیزگانِ بہار کی مانند حسین اور دلفریب نظر آنے لگیں۔ ان کے نشیب میں تروتازہ گھاٹیاں اور خوب صورت قطعات تھے جہاں پہاڑی غلہ کی ہری بھری فصلیں تیار کھڑی تھیں اور ...

مزید پڑھیے

نیا راستہ

اس نے مُثنّیٰ(Duplicate) چابی سے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔ دروازہ بند کیا اور تھوڑی دیر اُس سے پیٹھ لگا کر کھڑی رہی۔چاروں طرف گہرا اندھیرا تھا۔ اندر اور باہر کی تاریکی نے مل کر اُسے پریشان کر دیا۔ وہ اس تاریکی سے باہر آنے کے لیے چھٹپٹانے لگی۔ اُس نے ہاتھ بڑھا کر بجلی ...

مزید پڑھیے

وہ خواب

ایسا محسوس ہوا کہ پہاڑ کی بلندی سے اُسے کسی نے نیچے ڈھکیل دیا ہو۔ وہ گرتی چلی جا رہی تھی۔ زمین پر لگنے سے پہلے ہی اُس کی آنکھ کُھل گئی۔ اپنے بھاری پپوٹوں کو دھیرے دھیرے کھولتے ہوئے اُس نے دیکھنے کی کوشش کی۔ چاروں طرف گہرا اندھیرا تھا۔ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کیا وہ خواب دیکھ ...

مزید پڑھیے

سفرہے شرط...

بشارت حسین کا ریٹائرمنٹ پچھلے کئی ہفتوں سے موضوعِ بحث بناہواتھا وہ خود بھی کئی دنوں سے اپنی سبکدوشی کے بارے میں ہنس ہنس کر بڑے حوصلے کا اظہار کررہا تھا مگر اندر ہی اندر ایک اُداسی اور بوجھل پن کااحساس تھا ۔ اللہ اللہ کرکے وہ دن آہی گیا جب بشارت حسین اپنی تیس سالہ ملازمت کے بعد ...

مزید پڑھیے

گھر جنّت

امتیاز کو یونیورسٹی میں لکچرارہوئے دوسال بیت گئے تھے ۔ ہوسٹل کاکمرہ چھوڑکر اس نے یونیورسٹی کیمپس سے ملحق آبادی والے علاقے میں ایک چھوٹا ساگھر کرائے پرلے لیاتھا ۔اسے مستقل تقرری کا پروانہ بھی مل چکا تھا۔ نوکری ملنے کے بعد ضرورت بیوی کی ہوتی ہے۔ جس کا اسے انتظار تھا۔ یونیورسٹی ...

مزید پڑھیے

رام دین

وصیت کے مطابق زنگ آلود صندوق کوٹھری کے باہر لایا جاچکاتھا ۔ ستّار تالا کھولنے کے لئے موجود تھا ۔ پُتّن ٹیلر کفن لا چکے تھے ۔کاٹھی باندھنے والا بھی موجود تھا۔ مردہ جسم پر کئی لوٹے پانی ڈالا گیا، اور اسے جہاز پر چت ڈال کر باندھ دیا گیا۔ مجمع حیرت واستعجاب میں ڈوبا ہواتھا ۔ سبھی کے ...

مزید پڑھیے

کڑی دھوپ کا سفر

سبھی کے دل دھڑک رہے تھے۔ برات آنے میں دو گھنٹے باقی تھے۔ دادی نے تمام رات مُصلّے پر گزاردی تھی۔ امّی کو کسی بات کی سُدھ بُدھ نہ تھی۔ ابّو اور اشرف کے ہاتھ پاؤ ں پھولے ہوئے تھے۔ سب کا م میں مصروف تھے مگر سب کے دل سہمے ہوئے تھے۔ خدا کر ے سب ٹھیک رہے اورحمیراخوشی خوشی رُخصت ہو جائے ...

مزید پڑھیے

بڑھتے قدم

جاوید کے بلند حوصلوں کے سہارے فاخرہؔ نے چاند کو چھولینے کی تمنّا کی تھی مگر اس کی تمنّاؤں کا محل یکایک چکنار ہوگیاتھا۔ اُس نے جن مضبوط بانہوں کے دائرے میں سپنوں کو حقیقت میں بدلنے کا عزم کیاتھا، وہ سہارا بچھڑ چکاتھا۔ عزیز و اقارب جاوید کی لاش کو گھرسے باہر لے جاچکے تھے۔ دور ...

مزید پڑھیے

حمیدہ

حبّو میاں رنگا رنگ طبیعت کے مالک تھے ۔ کالارنگ ، کسرتی بدن ، گھونگرالے بال ، اونچی ستواں ناک اور ہرپل لبوں پررقص کرتاہوا تبسم اُن کی شخصیت میں عجیب نکھار پیداکرتاتھا۔وہ ساٹھ کے لپیٹے میں تھے مگر لگتے چالیس کے تھے۔ والدین کا انتقال اُن کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا ۔ جوانی میں قدم ...

مزید پڑھیے

منزل

وہ سوچتا ہے’’ میں اپنی زندگی کا مالک ہوں ۔ جب چاہوں اِ سے مٹاسکتاہوں‘‘ ۔لے....کن.... لیکن وہ کون ہے میرے اندر جو اس عمل کو کرنے سے روکتا ہے.......کیا یہ زندگی سے پیار ہے.......یا بیرونی کوئی دباؤ...... نہیں ... نہیں شاید.......ہماری سرشت میں داخل وہ علم......کہ زندگی تمہاری نہیں.......ایک امانت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5947 سے 6203