قومی زبان

رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نے

رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نے خوشی سے موت کو دے دی ہے زندگی میں نے کیا کبھی نہ سوا تیرے غیر کو سجدہ خراب شرک نہ کی رسم بندگی میں نے خدائی مل گئی سرکار عشق سے مجھ کو خودی کے بدلے طلب کی جو بے خودی میں نے چھلکتا ساغر مے پی کے چشم ساقی سے سکھائی سارے زمانہ کو مے کشی میں نے بہار ...

مزید پڑھیے

جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے

جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے جہاں سجدہ کروں میں آستان یار ہو جائے صبا برہم اگر زلف دراز یار ہو جائے قیامت کروٹیں لیتی ہوئی بیدار ہو جائے بنا دو جس کو تم مجبور وہ مجبور بن جائے جسے مختار تم کہہ دو وہی مختار ہو جائے تجھے معلوم کیا اے خواب ہستی دیکھنے والے وہی ہستی ہے ہستی جو ...

مزید پڑھیے

سر کو چاہا بھی اٹھانا تو اٹھایا نہ گیا

سر کو چاہا بھی اٹھانا تو اٹھایا نہ گیا کر کے سجدہ ترا پھر ہوش میں آیا نہ گیا جلوۂ طور کا ہو دیکھنے والا بے خود یہ بھی اک راز تھا اب تک جو بتایا نہ گیا تو نے کس ناز سے دیکھا تھا ازل میں ان کو آج تک ہوش میں دیوانوں سے آیا نہ گیا تا دم زیست نہ آیا مرے نامہ کا جواب نامہ بر مجھ کو برابر ...

مزید پڑھیے

شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا

شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا میں کبھی جلوہ گہہ یار سے آگے نہ بڑھا محرم راز حقیقت اسے سمجھیں کیونکر عشق میں جو رسن و دار سے آگے نہ بڑھا ننگ ہے عشق میں راحت طلبی اے غافل توسن عمر غم یار سے آگے نہ بڑھا خلد کو ہم بھی سمجھتے ہیں مگر اے واعظ خلد کو کوچۂ دل دار سے آگے نہ بڑھا میں نے ...

مزید پڑھیے

ترے حسن نظر کا یہ بھی اک اعجاز ہے ساقی

ترے حسن نظر کا یہ بھی اک اعجاز ہے ساقی کہ ہر مے کش زمیں پر آسماں پرواز ہے ساقی خیال اتنا رہے بس اپنے ساغر کی پلانے میں ترا انجام ہے ساقی مرا آغاز ہے ساقی کہیں باہم دگر ٹکرا نہ جائیں ساغر و مینا مئے سرجوش اس دم مائل پرواز ہے ساقی جبین شوق سجدہ کر کہاں کا پاس رسوائی خوشا وقتے کہ ...

مزید پڑھیے

موت کیا ختم حیات غم دنیا کرنا

موت کیا ختم حیات غم دنیا کرنا حاصل زیست ہے مرنے کی تمنا کرنا قصۂ طور کا ہے مجھ کو اعادہ کرنا ایک بار اور کرم برق تجلیٰ کرنا جب کہ آتا ہے نظر تیرا ہی جلوہ ہر سو پھر تو بیکار نگاہوں سے ہے پردہ کرنا آبرو کھوئی سر بزم گرا کر آنسو چشم خوں بار کو لازم نہ تھا رسوا کرنا سیکھ لے ہم سے ...

مزید پڑھیے

سامنے اس بت کے جب جانا پڑا

سامنے اس بت کے جب جانا پڑا کفر پر ایماں مجھے لانا پڑا بہر درماں ان کو جب آنا پڑا درد دل کو اور بڑھ جانا پڑا پھر بھی کب سمجھا فریب حسن کو دل کو لاکھوں بار سمجھانا پڑا جیتے جی دیدار جاناں تھا محال زندگی میں مجھ کو مر جانا پڑا کوئے جاناں کوچۂ جاناں تھا پھر جنت واعظ کو ٹھکرانا ...

مزید پڑھیے

اجل نے لوٹ لیا آ کے کاروان حیات

اجل نے لوٹ لیا آ کے کاروان حیات سنا رہا ہوں زمانہ کو داستان حیات ہزاروں کروٹیں بدلیں زمانہ نے لیکن اٹھے نہ خواب تغافل سے خفتگان حیات رہا نہ پیری میں جب کچھ بھی زندگی کا مزہ سحر کے وقت چلے اٹھ کے مہمان حیات رہ عدم کی وہ دشواریاں معاذ اللہ کہ مر کے پہنچے ہیں منزل پہ رہروان ...

مزید پڑھیے

شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونا

شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونا اجل کا آپ ہی گھر میں وہ مہماں ہونا خفا نہ سن کے مرا حال مہرباں ہونا کہ اس بیان کو اک دن ہے داستاں ہونا دیار حسن کی سرگرمیاں معاذ اللہ ہر اک قدم پہ محبت کا امتحاں ہونا کوئی ستم ہو یہیں سے شروع ہوتا ہے غضب ہے کوچۂ جاناں کا آسماں ہونا اجل سے پہلے صبا ...

مزید پڑھیے

آئے نہ حرف ضبط پہ پیر مغاں کہیں

آئے نہ حرف ضبط پہ پیر مغاں کہیں بن جائیں خود سوال نہ انگڑائیاں کہیں کرتی ہیں سجدہ جو رخ جاناں کو دیکھ کر جھکتی ہیں سنگ در پہ وو پیشانیاں کہیں اہل خرد سراغ لگاتے ہی رہ گئے اہل جنوں کی مل نہ سکیں دھجیاں کہیں بے ربطی سجود کا انداز دیکھ کر بدلہ نہ لے جبیں سے ترا آستاں کہیں بالیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5682 سے 6203