رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نے
رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نے خوشی سے موت کو دے دی ہے زندگی میں نے کیا کبھی نہ سوا تیرے غیر کو سجدہ خراب شرک نہ کی رسم بندگی میں نے خدائی مل گئی سرکار عشق سے مجھ کو خودی کے بدلے طلب کی جو بے خودی میں نے چھلکتا ساغر مے پی کے چشم ساقی سے سکھائی سارے زمانہ کو مے کشی میں نے بہار ...