قومی زبان

راز توحید تو کثرت میں چھپا ہے اے دوست

راز توحید تو کثرت میں چھپا ہے اے دوست سیکڑوں جلوے ہیں اک جلوہ نما ہے اے دوست اک زمانہ یہاں دیوانہ بنا ہے اے دوست تیرے کوچے کی ہوا ہوش ربا ہے اے دوست عشرت حاصل عصیاں میں کہاں وہ لذت بخدا ترک گنہ میں جو مزا ہے اے دوست سرمۂ طور ہو یا خاک شفا یا اکسیر سب سے بڑھ کر تری خاک کف پا ہے اے ...

مزید پڑھیے

خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتا

خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتا جو تم ملتے تو گویا حاصل کون و مکاں ملتا غلام ساقیٔ کوثر ہوں مے کی کیا کمی مجھ کو نہ ملتا گر یہاں ساغر مرا حصہ وہاں ملتا اسے کب کوئی پا سکتا اسے کیا دیکھتا کوئی نظر سے دور دل کی وسعتوں میں جو نہاں ملتا انہیں کب نیند آئی سنتے سنتے دل کا ...

مزید پڑھیے

دیا جب دل تو دلبر کا گلہ کیا

دیا جب دل تو دلبر کا گلہ کیا ستم پرور کرم نا آشنا کیا نہ پوچھیں پوچھنے والے ہوا کیا یہ دیکھیں اس نے دل لے کر کیا کیا دہائی ہے شب ہجراں دہائی قیامت کی سحر کا آسرا کیا کہاں تک ساتھ دے ذوق نظارہ ترے جلووں کا میرا سامنا کیا رہی مشق ستم دل پر یوں ہی گر تمہارا ہی مٹے گا گھر مرا ...

مزید پڑھیے

اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا

اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا پوچھی وہ بات یار نے جس کا گماں نہ تھا اس سے زیادہ حاصل عمر رواں نہ تھا تیرا نشاں جو پایا تو اپنا نشاں نہ تھا دنیا ہو یا ہجوم قیامت ہو یا کہ حشر تیرے خراب عشق کا چرچا کہاں نہ تھا دیکھی قفس سے جا کے چمن میں جفائے چرخ سب کے تو آشیاں تھے مرا آشیاں ...

مزید پڑھیے

خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں

خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں وہ بیقرار جسے مر کے بھی قرار نہیں نگاہ یار مگر اب بھی شرمسار نہیں کہ ایک عرض تمنا پہ لاکھ بار نہیں تجلیوں نے مجھے پہلے کر دیا بے خود جب آیہ ہوش تو دیکھا جمال یار نہیں نہ پوچھ میرے دل غمزدہ کا حال نہ پوچھ یہ وہ چمن ہے جو شرمندۂ بہار نہیں مٹائے ...

مزید پڑھیے

مری ہستی کا جلووں میں ترے روپوش ہو جانا

مری ہستی کا جلووں میں ترے روپوش ہو جانا یہیں تو ہے بس اک قطرہ کا دریا نوش ہو جانا تمہیں کیا غم مبارک ہو تمہیں روپوش ہو جانا ہوا جاتا ہے افسانہ مرا بے ہوش ہو جانا وہی سمجھے ہیں کچھ کچھ زندگی و موت کا حاصل جنہیں آتا ہے جیتے جی کفن بر دوش ہو جانا یہ اچھی ابتدا کی آپ نے اے حضرت ...

مزید پڑھیے

اے درد دل میں رہ کر دل ہی کا راز ہو جا

اے درد دل میں رہ کر دل ہی کا راز ہو جا بیمار غم کا اپنے خود چارہ ساز ہو جا اے جذب دل سراپا سوز و گداز ہو جا دنیائے رنگ و بو میں دنیائے راز ہو جا ہاں ہاں بڑھا دے مدت پابندیٔ جنوں کی زلف دراز جاناں عمر دراز ہو جا ہر ذرۂ حقیقت یہ دے رہا صدا ہے پہلے رہ طلب میں خاک مجاز ہو جا سر نامۂ ...

مزید پڑھیے

اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیں

اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیں تم جس کو مل گئے اسے پھر کیا ملا نہیں سجدہ سے سر اٹھانے کو جی چاہتا نہیں اب یا تو ہم نہیں در دل دار یا نہیں اک پیکر خیال کی اللہ رے محویت میں خود بھی اب نگاہ میں اپنی رہا نہیں محشر نثار اس نگۂ شرمسار پر کہنا پڑا خدا سے یہ قاتل مرا نہیں وہ تنکے جب ...

مزید پڑھیے

حرم کہتا ہے کچھ دیر بتاں کچھ اور کہتا ہے

حرم کہتا ہے کچھ دیر بتاں کچھ اور کہتا ہے طریق منزل وارفتگاں کچھ اور کہتا ہے ہر اک سے ان کا وحشی داستاں کچھ اور کہتا ہے نہیں ہوتا جہاں کوئی وہاں کچھ اور کہتا ہے امیر کارواں کیا ہے خدائے کارواں ہم تھے مگر اب تو غبار کارواں کچھ اور کہتا ہے ہر اک جلوہ میں اک پردہ ہر اک پردہ میں اک ...

مزید پڑھیے

کنہیا

میں صدقے ترے حق کے پیارے کنہیا زمیں پر خدا کے اتارے کنہیا نہیں ایک گوکل پہ موقوف جلوے ترے ہر کہیں ہیں نظارے کنہیا مزہ تو یہی ہے تری معرفت کا کہ ہر قوم سمجھے ہمارے کنہیا وہی تو ہیں بس زندہ‌‌ دار محبت ترے عشق کے جو ہیں مارے کنہیا جفا و ستم کے اندھیروں میں مل کر بنے خلق میں چاند ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5683 سے 6203