قومی زبان

شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں

شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں یعنی ہے آفتاب حد آفتاب میں سرزد ہوئے گناہ جو عہد شباب میں مالک مرے انہیں تو نہ رکھنا حساب میں عالم یہی رہا تو نگاہوں کا ذکر کیا نیت بھی ڈوب جائے گی جام شراب میں اے برق کیا ہمیں کو مٹانا چمن میں تھا تھا اور آشیاں نہ کوئی انتخاب میں افقرؔ یہ سب ...

مزید پڑھیے

بس اتنی رہ گئی اہل وفا کی داستاں باقی

بس اتنی رہ گئی اہل وفا کی داستاں باقی سر محشر بھی ہے ذکر جبین و آستاں باقی رہے گا آشیاں بھی گر رہے گا گلستاں باقی یہ ضد اب تو رہے گی عمر بھر اے باغباں باقی میں ہر نقش قدم پر جھوم کے سجدے میں گرتا ہوں رہے کیوں احترام کوچۂ پیر مغاں باقی مٹا سکتے نہیں حشر و قیامت بھی یہ دو ...

مزید پڑھیے

کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے

کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے جتنا جو مختار ہے اتنا ہی وہ مجبور ہے موت پر قدرت ہے جینے کا نہیں مقدور ہے تو ہی درد دل بتا اب کیا تجھے منظور ہے ہو کے مختار اختیار خیر و شر سے دور ہے اتنی قدرت پر بھی انساں کس قدر مجبور ہے کتنا پر حیرت ہے منظر آستان یار کا دور سے نزدیک تر نزدیک سے ...

مزید پڑھیے

محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی

محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی بے پردہ حسن یار ہوا ہے کبھی کبھی رقصاں جمال یار ہوا ہے کبھی کبھی پردہ میں انتشار ہوا ہے کبھی کبھی پہنچی ہے خاک عاشق برباد عرش پر اونچا اگر غبار ہوا ہے کبھی کبھی زاہد طواف کرتے ہیں اس آستاں کا ہم کعبہ میں جو شمار ہوا ہے کبھی کبھی پیماں شکن کے ...

مزید پڑھیے

وعدۂ وصل یار نے مارا

وعدۂ وصل یار نے مارا شدت انتظار نے مارا منفعل ہو کے یار نے مارا شکوۂ بار بار نے مارا نہ چھپا راز دل مگر نہ چھپا دیدۂ اشک بار نے مارا بن کے تقدیر راہ غربت میں جنبش چشم یار نے مارا وعدۂ بے وفا وفا نہ ہوا مجھ کو اس اعتبار نے مارا صدقے دل ایسی رازداری پر جس کو ہو رازدار نے ...

مزید پڑھیے

محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی

محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی یہ توہین مذاق عاشقی دیکھی نہیں جاتی ہر اک تصویر کی جلوہ‌ گری دیکھی نہیں جاتی وہ صورت دیکھ کر پھر دوسری دیکھی نہیں جاتی بہار اچھی طرح گلشن میں آئی بھی نہیں لیکن اسیروں سے نظر صیاد کی دیکھی نہیں جاتی دل مضطر مرا پروردۂ آغوش طوفاں ہے خوشی ...

مزید پڑھیے

سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے

سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے بہر صورت رہی بہتر ہماری داستاں ہم سے زباں پر آئے گی کیا پاس ناموس محبت سے نہیں دہرائی جاتی دل میں اپنی داستاں ہم سے چنے تھے چار تنکے ایک دن صحن گلستاں میں رہا تا زندگی برہم مزاج باغباں ہم سے دہائی ہے غم مجبوریٔ امکاں دہائی ہے کہ پھرتی ...

مزید پڑھیے

صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی

صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی کہ جمع کرتی ہے خاک ان کے آستانہ کی فلک کو ضد ہے نشیمن مرا مٹانے کی چمن میں دھن ہے مجھے آشیاں بنانے کی زمیں پہ لالہ و گل سے ہے ابتدائے بیاں شفق ہے آخری سرخی مرے فسانے کی اسی سے نکلے گا تعمیر کا بھی اک پہلو ضرور چاہیے تخریب آشیانے کی ہزار جلوۂ بے ...

مزید پڑھیے

وہ امنگیں نہیں اب وہ دل ناشاد نہیں

وہ امنگیں نہیں اب وہ دل ناشاد نہیں واقعہ خواب سا کچھ یاد ہے کچھ یاد نہیں کون سے ذرہ پہ دنیائے غم آباد نہیں دل برباد ہمارا دل برباد نہیں وہ ہو دنیا کہ لحد یا کہ ہو روز محشر مبتلائے غم جاناں کہیں آزاد نہیں تو جو سرگرم تماشا ہو دم مشق ستم کس کو پھر شوق شہادت ستم ایجاد نہیں پاس ہے ...

مزید پڑھیے

وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے

وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے دامن کو جیب جیب کو داماں نہ کر سکے درد دروں کا وہ بھی تو درماں نہ کر سکے دشواریٔ حیات کو آساں نہ کر سکے تر خون دل سے ناوک جاناں نہ کر سکے ہم اتنی بھی تو خاطر مہماں نہ کر سکے کچھ ایسے جلد ختم ہوئے زندگی کے دن ہم اعتبار عمر گریزاں نہ کر سکے دریا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5681 سے 6203