قومی زبان

میں وارفتہ ستارو کا مری منزل تو آگے ہے

میں وارفتہ ستارو کا مری منزل تو آگے ہے میں راہی رہ گزاروں کا مری منزل تو آگے ہے نہ پھولوں کی تمنا ہے نہ خوشبو سے کوئی مطلب نہ میں دشمن ہوں خاروں کا مری منزل تو آگے ہے مجھے غوطے لگانے ہیں مجھے گوہر سے مطلب ہے نہیں خواہاں کناروں کا مری منزل تو آگے ہے اندھیروں میں چمکتا ہوں سدا ...

مزید پڑھیے

تم بھی تھے سر دار سر دار تھا میں بھی

تم بھی تھے سر دار سر دار تھا میں بھی تم دیکھ تو لیتے کہ نمودار تھا میں بھی یہ جسم رکاوٹ تھا میرے عشق میں شاید اور سچ ہے کہ اس جسم سے بیزار تھا میں بھی ممکن ہے کہ بیتاب رہا ہو کبھی تو بھی یادوں کی اذیت میں گرفتار تھا میں بھی بازار میں لایا گیا یوسف کی طرح میں کچھ دیر سہی رونق ...

مزید پڑھیے

عکس کھل جاتا ہے لیکن دائرہ کھلتا نہیں

عکس کھل جاتا ہے لیکن دائرہ کھلتا نہیں سامنے چہرہ نہ ہو تو آئینہ کھلتا نہیں روح سے محروم بینائی پہ منظر کیا کھلے آنکھ کی دہلیز پر تو رتجگا کھلتا نہیں مصلحت کے جگنوؤں کو ساتھ رکھتے ہیں میاں رنجشوں کے درمیاں تو راستہ کھلتا نہیں زندگی اور موت دونوں ہی انوکھے بھید ہیں ایک کھل ...

مزید پڑھیے

کہکشاں

زمیں سے تو یہ بات ہے دور کی مگر کہکشاں ہے سڑک نور کی کہیں صف بہ صف رنگ کی بوتلیں جلائی ہیں یا چرخ یہ مشعلیں کریں غور تو عقل سو جائے گی نظر اتنے تاروں میں کھو جائے گی یہ رستے میں شعلے بچھائے گئے کہ بجلی کے ٹکڑے اڑائے گئے ادھر سے ادھر تک ہے دریائے نور کہ آئینہ ہو گیا چور چور زمیں پر ...

مزید پڑھیے

یہ ریت قیس کے نقش قدم پہ چلتی رہی

یہ ریت قیس کے نقش قدم پہ چلتی رہی سمندروں کے خد و خال کو بدلتی رہی کسی کے قدموں سے رستے لپٹ کے رویا کیے کسی کی موت پہ خود موت ہاتھ ملتی رہی اسے کنارے کا کنکر سمجھ کے پاؤں نہ رکھ یہ آرزو میرے دل کے صدف میں پلتی رہی غرور تشنہ دہانی تری بقا کی قسم ندی ہمارے لبوں کی طرف اچھلتی ...

مزید پڑھیے

وہی کہ جس میں غرور شہی ملایا گیا

وہی کہ جس میں غرور شہی ملایا گیا مرا خمیر اسی خاک سے اٹھایا گیا اب اس پہ چاند ستارے بھی رشک کرتے ہیں وہ اک دیا جو کبھی دشت میں بجھایا گیا اگے گی فصل مضافات میں بغاوت کی فصیل شہر سے مجھ کو اگر گرایا گیا مگر میں ذات کے صحرا میں محو رقص رہا مجھے بھی کوہ ندا کی طرف بلایا گیا مرے لیے ...

مزید پڑھیے

تازہ پھول سجائیں کیوں ہم کمرے کے گل دانوں میں

تازہ پھول سجائیں کیوں ہم کمرے کے گل دانوں میں تیری خوشبو شامل ہے روزانہ کے مہمانوں میں کیسی کیسی بستی اجڑی اہل خرد کے ہاتھوں سے دیوانوں نے شہر بسائے جا کر ریگستانوں میں اپنے آنسو دفن ہوئے ہیں آنکھ کی گیلی قبروں میں اپنی چیخیں قید رہی ہیں ذہنوں کے زندانوں میں اس کے روپ کی دھوپ ...

مزید پڑھیے

میرے خوش رہنے سے اس کو کچھ پریشانی نہ تھی

میرے خوش رہنے سے اس کو کچھ پریشانی نہ تھی اس کو زندہ دیکھ کر مجھ کو بھی حیرانی نہ تھی دو تھکے ہارے دلوں نے اک ندی پر رات کی تھی مگر جذبوں میں وہ پہلی سی طغیانی نہ تھی رک گیا تھا وہ مرے حجرے میں جانے کس لیے آسماں شفاف تھا اور رات طوفانی نہ تھی تیغ زن کو وار سے پہچان لیتا تھا ...

مزید پڑھیے

اسم بن کر ترے ہونٹوں سے پھسلتا ہوا میں

اسم بن کر ترے ہونٹوں سے پھسلتا ہوا میں برف زاروں میں اتر آیا ہوں جلتا ہوا میں اس نے پیمانے کو آنکھوں کے برابر رکھا اس کو اچھا نہیں لگتا تھا سنبھلتا ہوا میں رات کے پچھلے پہر چاند سے کچھ کم تو نہ تھا دن کی صورت تری بانہوں سے نکلتا ہوا میں تیرے پہلو میں ذرا دیر کو سستا لوں گا تجھ ...

مزید پڑھیے

کبھی تو خواب کبھی رت جگے سے باتیں کیں

کبھی تو خواب کبھی رت جگے سے باتیں کیں ترے گمان میں ہم نے دیے سے باتیں کیں ردائے شب پہ نئے طرز سے وصال لکھا بچھڑنے والوں نے اک دوسرے سے باتیں کیں رہی نہ یاروں سے امید غم گساری کی گھر آئے گریہ کیا آئنے سے باتیں کیں عجب مذاق ہے ہم نے خدا کے دھوکے میں تمام عمر کسی وسوسے سے باتیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5666 سے 6203