قومی زبان

ابھی جوانی ہے میکدے پر ابھی تو بادل بھی ہے گھنیرا

ابھی جوانی ہے میکدے پر ابھی تو بادل بھی ہے گھنیرا ابھی تو زندہ ہے حسن ساقی ابھی سلامت ہے عشق میرا وہ شب کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں وہ لڑکھڑانے لگا اندھیرا اٹھو مصیبت کشو اٹھو بھی اٹھو کہ ہونے کو ہے سویرا مجھے نہ محبوس کر سکے گی کسی بھی پازیب کی چھنا چھن گرفت کی منزلوں سے آگے گزر چکا ...

مزید پڑھیے

عشق مانوس التجا نہ ہوا

عشق مانوس التجا نہ ہوا حسن آزردۂ جفا نہ ہوا جیسا چاہا بنا لیا تم نے اک کھلونا ہوا خدا نہ ہوا بت خدا بن کے بار بار آئے میں ہی شرمندۂ دعا نہ ہوا سب غلط فہمیاں ہی مٹ جاتیں دل سزاوار التجا نہ ہوا ہائے مجبوریاں محبت کی میں خفا ہو کے بھی خفا نہ ہوا جانے لا کر کہاں ڈبو دیتا خیر گزری ...

مزید پڑھیے

سہاگ کی مہندی

رقص مینا سرود جام و سبو بہکی بہکی بہار کی خوشبو کھیلتی ظلمتوں کے سینے میں مرمریں رات کے سفینے میں جانب ساحل حیات رواں حسرتوں کی جوان انگڑائی مسکراتی سی کائنات رواں شوخیاں مائل تبسم سی اور نبضیں یقین کی گم سی صبح خنداں بہار رعنائی آرزؤں کی جھرمٹوں میں ہے جانب ساحل حیات رواں تیری ...

مزید پڑھیے

گر ایک شب بھی وصل کی لذت نہ پائے دل

گر ایک شب بھی وصل کی لذت نہ پائے دل پھر کس امید پر کوئی تم سے لگائے دل اک دل تجھے مدام ستانے کو چاہیے تیرے لئے کہاں سے کوئی روز لائے دل اترا نہ آ کے یاں کوئی جز کاروان غم مہماں سرا سے کم نہیں یارو سرائے دل کوچہ سے اپنے ہم کو اٹھاتا ہے کس لئے بیٹھیں ہیں ہم جہان سے اپنا اٹھائے ...

مزید پڑھیے

دنیا کے جو مزے ہیں ہرگز وہ کم نہ ہوں گے

دنیا کے جو مزے ہیں ہرگز وہ کم نہ ہوں گے چرچے یہی رہیں گے افسوس ہم نہ ہوں گے آغاز عشق ہی میں شکوہ بتوں کا اے دل دکھ صبر ابھی تو کیا کیا ستم نہ ہوں گے بلبل کے درد دل کو ممکن نہیں مداوا گلچیں کے ہاتھ دونوں جب تک قلم نہ ہوں گے یاد گزشتگاں پر کیا روئیں اب ترقیؔ کیا ہم روانہ سوئے ملک ...

مزید پڑھیے

یہاں وہاں سے ادھر ادھر سے نہ جانے کیسے کہاں سے نکلے

یہاں وہاں سے ادھر ادھر سے نہ جانے کیسے کہاں سے نکلے خوشی سے جینے کی جستجو میں ہزار غم ایک جاں سے نکلے یہ کمتری برتری کے فتنے یہ عام و اعلیٰ کے سرد جھگڑے ہمیں نے نازو سے دل میں پالے ہمارے ہی درمیاں سے نکلے خلوص کی گفتگو تو چھوڑو کسی کو فرصت نہیں ہے خود سے میاں غنیمت سمجھ لو شکوے ...

مزید پڑھیے

کالج کا دالان نہیں ہے پیارے ظالم دنیا ہے

کالج کا دالان نہیں ہے پیارے ظالم دنیا ہے اور یہاں سچ بولنے والا سچ میں سب سے جھوٹا ہے میں تیرے دیدار کی خاطر آ جاتا ہوں خوابوں تک ورنہ اس لذت کے علاوہ نیندوں میں کیا رکھا ہے چمکیلے کپڑوں سے پرکھا مت کر انسانی لہجے گہرے کنویں میں اجلا پانی کھرا بھی ہو سکتا ہے وعدہ کر اے دل کش ...

مزید پڑھیے

اوڑھا ہے جب سے میں نے تمہارے وجود کو

اوڑھا ہے جب سے میں نے تمہارے وجود کو اک آگ لگ گئی میرے سارے وجود کو اٹھتی ہے میرے جسم سے تیرے بدن کی لو لگتا ہے چوم لیں گے ستارے وجود کو میں نے بدن اتار کے گٹھڑی میں رکھ دیا کیسے سنبھالتا میں ادھارے وجود کو یہ روح کا سفر بھی سمندر سے کم نہیں ملتے نہیں ہیں اس کے کنارے وجود کو تھا ...

مزید پڑھیے

چراغ نور تھامے دشت سے جگنو نکل آئے

چراغ نور تھامے دشت سے جگنو نکل آئے پلٹ کر دیکھ لیں شاید کوئی پہلو نکل آئے تمہارے ہجر میں پتھرا گئی ہے آنکھ ساون کی ملو ہم سے کہ یوں شاید کوئی آنسو نکل آئے ہمہ تن رقص رہتا ہوں یہی میں سوچ کے شاید تمنا سوز صحرا سے کوئی آہو نکل آئے یہ کوئے یار ہے کوئی کرشمہ ہو بھی سکتا ہے اگر اس حبس ...

مزید پڑھیے

میرے ادراک میں سوچوں کا گزر رہتا ہے

میرے ادراک میں سوچوں کا گزر رہتا ہے جس طرح دہر میں لمحوں کا سفر رہتا ہے جانے کس سازشی ماحول کی سوغاتیں ہیں کوئی مفلس تو کوئی صاحب زر رہتا ہے ہم اچھالیں گے اسی شب کے سمندر سے نجوم اک یہی جذبۂ نو پیش نظر رہتا ہے جبر حالات سے لرزے نہ کہیں ساری زمیں اجنبی خوف سا کیوں شام و سحر رہتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5665 سے 6203