ابھی جوانی ہے میکدے پر ابھی تو بادل بھی ہے گھنیرا
ابھی جوانی ہے میکدے پر ابھی تو بادل بھی ہے گھنیرا ابھی تو زندہ ہے حسن ساقی ابھی سلامت ہے عشق میرا وہ شب کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں وہ لڑکھڑانے لگا اندھیرا اٹھو مصیبت کشو اٹھو بھی اٹھو کہ ہونے کو ہے سویرا مجھے نہ محبوس کر سکے گی کسی بھی پازیب کی چھنا چھن گرفت کی منزلوں سے آگے گزر چکا ...