دستور تھا جو غم کا پرانا بدل گیا
دستور تھا جو غم کا پرانا بدل گیا سنبھلے نہ تھے ابھی کہ زمانہ بدل گیا شکوہ نہیں کہ ساغر و مینا بدل گئے ٹوٹا خمار کیف شبانہ بدل گیا جو باب تھے اہم ابھی ہونے تھے وہ رقم پر کیا کہ لکھتے لکھتے فسانہ بدل گیا مشق سخن وہی ہے مشقت بھی ہے وہی کیسے کروں یقین زمانہ بدل گیا نغمہ سرا ہیں ہم ...