تمہارا کیا ہے
چاک در چاک گریباں ہے تمہارا کیا ہے میری وحشت مرا داماں ہے تمہارا کیا ہے تم ہی اردو کے گلستاں میں خوش الحان نہیں کشت بنگال گل افشاں ہے تمہارا کیا ہے پا فگاران جنوں کو نہ ہدایت دینا کو بہ کو خار مغیلاں ہے تمہارا کیا ہے تم کو آتا بھی ہے کچھ اپنے قصیدے کے سوا کوئی اردو کا ثنا خواں ہے ...