یہ ریگ رواں یاد دہانی تو نہیں کیا
یہ ریگ رواں یاد دہانی تو نہیں کیا صحرا کسی دریا کی نشانی تو نہیں کیا دیکھو مرا کردار کہیں پر بھی نہیں ہے دیکھو یہ کوئی اور کہانی تو نہیں کیا روشن ہے نیا عکس سر چشم تماشہ بیتے ہوئے منظر کی روانی تو نہیں کیا اس گھر کے در و بام بھی اپنے نہیں لگتے قسمت میں نئی نقل مکانی تو نہیں ...