قومی زبان

اب زلیخا ہے یعقوب کی آہ میں (ردیف .. ے)

اب زلیخا ہے یعقوب کی آہ میں میرے یوسف کبھی تو دکھائی بھی دے خانہ دل سے موڑیں مہاریں اگر تو مجھے اپنے غم سے رہائی بھی دے میں تمنا کو کیسے لکھوں تیرگی پھر یہ دل تیرگی کی دہائی بھی دے حسن نظریں جھکائے ہوئے رو بہ رو اس تماشے تلک پر رسائی بھی دے رات مدت سے آنکھوں میں کٹتی ہوئی اور ...

مزید پڑھیے

پہلے کیا گیا مجھے یکتائے رنگ و بو (ردیف .. ے)

پہلے کیا گیا مجھے یکتائے رنگ و بو پھر رنج کی تہوں میں اتارا گیا مجھے تو اضطراب میں ہی لیا ہوگا میرا نام ورنہ کبھی سکوں میں پکارا گیا مجھے ماتھے پہ لکھ دیا گیا اس خوش ادا کا ہجر اور ہجر کے دروں میں سنوارا گیا مجھے پیروں کو روکتی رہی آواز رفتگاں صحرائے خاک و خوں میں اتارا گیا ...

مزید پڑھیے

تھی تو یہ ایک بات ہی پر سنگ میل تھی (ردیف .. ا)

تھی تو یہ ایک بات ہی پر سنگ میل تھی کھونے کا خوف اسے بھی ہراساں کیے رہا بادل بھرا بھرایا نہ برسا تو رنج کیا اس دھوپ کے سفر کو تو آساں کیے رہا یہ ایک شے الگ سے رگ جاں پہ بار تھی اک لمحۂ فراق پریشاں کیے رہا کیا موڑ تھا کہ ضبط کا یارا نہیں رہا حالانکہ عمر بھر دل ناداں کیے رہا اس غم ...

مزید پڑھیے

یہ کس کے نقش آئنے میں ابھرے یہ کون راحت ہے جھلملائی (ردیف .. ے)

یہ کس کے نقش آئنے میں ابھرے یہ کون راحت ہے جھلملائی کہ اس کا جادو جنوں میں گھلتے ہوؤں کو بے حال کر گیا ہے ہمارے حصے میں لاؤ دے دو تمام وحشت وہ سب اذیت تمہارے ہاتھوں میں جو تھما کر کوئی نہ جانے کدھر گیا ہے تمہیں کسی زخم کی خبر تک نہ دیں گے ہم کہ عزیز جاں ہو نہ یہ بتائیں گے سکھ کا ...

مزید پڑھیے

کہ جن سے لہجہ بدل کے تو بولتا ہے وہ لوگ (ردیف .. ن)

کہ جن سے لہجہ بدل کے تو بولتا ہے وہ لوگ ملال اس کا سہیں گے مگر کہیں گے نہیں رعایتوں میں لکھیں گے ہمیش نام ترا بہ نام جرم وفا تہمتیں دھریں گے نہیں ہمارا وقت تو ہنس کر گزرنے والا تھا مگر یہ رنج تو اب راہ سے ہٹیں گے نہیں اے عشق تیرے مزاجوں کی خیر ہو اب کے دئے ہیں زخم جو تو نے کبھی ...

مزید پڑھیے

مگر یہ کس کی تمنا نے ڈس لیا اس کو (ردیف .. ا)

مگر یہ کس کی تمنا نے ڈس لیا اس کو جو ایک چہرہ جدا سا دکھائی دیتا تھا یہ حادثہ تھا کہ قسمت نے ایک کروٹ لی وگرنہ بخت سنورتا دکھائی دیتا تھا وہ اک شکست بڑی دور تک نبھائی تھی ملال جس کا توانا دکھائی دیتا تھا جو سینت سینت کے رکھا ہوا اثاثہ تھا فشار بن کے رہے گا دکھائی دیتا تھا

مزید پڑھیے

یہ بات کیوں نہیں لگتی بہت عجیب تمہیں (ردیف .. ے)

یہ بات کیوں نہیں لگتی بہت عجیب تمہیں کوئی کسی کو پکارے جواب تک نہ ملے بس اک خلش کا مقدر سنوارنے کے لیے سوال کیا کیا نکھارے جواب تک نہ ملے پس نوشتۂ تقدیر ماجرا کیا تھا بجھائے کس نے ستارے جواب تک نہ ملے اگرچہ ہم نے صدائیں کئی سنی تھیں مگر پکارنے پہ ہمارے جواب تک نہ ملے نہ ہم ...

مزید پڑھیے

یہ ہرے پیڑ جو پانی پہ جھکے ہوتے ہیں (ردیف .. ی)

یہ ہرے پیڑ جو پانی پہ جھکے ہوتے ہیں شام ہوتے ہی گنوا دیتے ہیں بینائی بھی گو کہ خاموش ہی رہتی ہے عموماً لیکن چیخ اٹھتی ہے کبھی ہجر میں تنہائی بھی وہ ترے خواب تھی آباد جہاں اک دنیا کیا وہ دنیا مجھے کھو کر تجھے راس آئی بھی سرمئی رات میں اک زخم کھلا رہتا ہے وہ گیا وقت میسر تھی ...

مزید پڑھیے

اک تسلسل سے ایک اذیت کو جانب دل اچھالتا ہے کوئی

اک تسلسل سے ایک اذیت کو جانب دل اچھالتا ہے کوئی ایک مشکل سے نیم جاں ہو کر خود کو کیسے سنبھالتا ہے کوئی بجھتی پلکوں سے تاکتی وحشت شکر کر ہم تجھے میسر ہیں ہمیں جو روگ ہو گئے لاحق دیکھ وہ بھی اجالتا ہے کوئی امتحاں میں پڑے ہوئے یہ لوگ اک تأسف سے دیکھتا ہے جہاں ہائے ایسے خراب حالوں ...

مزید پڑھیے

خدمت وطن

وطن کی خدمت بے لوث ہے ہر شخص پر لازم یہی وہ کام ہے جو آدمی کے کام آتا ہے لگا دی جاتی ہے حب وطن میں سر کی بازی بھی اک ایسا بھی وفور جوش میں ہنگام آتا ہے پلٹنے ہی کو ہے قسمت تمہاری اے وطن والو تمہارے واسطے یہ عرش سے پیغام آتا ہے غلامی دور ہوتی ہے تمہاری اب کوئی دم میں حکومت اور سرداری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5520 سے 6203