قومی زبان

ہمت مرداں

نئی تہذیب نے برباد غارت کر دیا بالکل ہم اپنے ملک سے اب اس کو غارت کر کے چھوڑیں گے ہمارے علم و فن سب اس نے رخصت کر دیے ہم سے ہم اب ہندوستاں سے اس کو رخصت کر کے چھوڑیں گے غلامی نے ہمارے سارے جوہر خاک کر ڈالے ہم اپنے ملک سے دور اب یہ لعنت کر کے چھوڑیں گے ہم اپنے ملک پر قبضہ کریں گے جس ...

مزید پڑھیے

ہمارا دیس

جگ سے بھلا سنسار سے پیارا دل کی ٹھنڈک آنکھ کا تارا سب سے انوکھا سب سے نیارا دنیا کے جینے کا سہارا پیارا بھارت دیس ہمارا کتنی پر کیف اس کی ادائیں کتنی دل کش اس کی فضائیں مشک سے بڑھ کر اس کی ہوائیں خلد سے بہتر اس کا نظارا پیارا بھارت دیس ہمارا ملک کو حاصل ہو آزادی ختم ہو دور ستم ...

مزید پڑھیے

انقلاب

یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے نظام چرخ میں دیکھیں گے اک تغیر خاص سکون دہر میں اک اضطراب دیکھیں گے خدا نے چاہا تو اب جلد ہی وطن والے وطن میں اپنا مشن کامیاب دیکھیں گے دعائیں کی ہیں جو اہل وطن نے رو رو کر یقیں ہے جلد انہیں مستجاب دیکھیں ...

مزید پڑھیے

دھرم و ایمان

بہت دن سے وطن میں اک محاذ جنگ قائم ہے کہیں ہے دھرم کو خطرہ کہیں ایمان کو خطرہ بپا ہے سخت طوفاں رونما ہیں سخت ہنگامے کہیں ہے وید کو خطرہ کہیں قرآن کو خطرہ کہیں مسجد کو خطرہ ہے شوالے کے مہنتوں سے کہیں ہے خانقہ والوں سے دیو استھان کو خطرہ کہیں مسلم کو خطرہ اپنے ایمانی تحفظ کا کہیں ...

مزید پڑھیے

ضرورت اتحاد

یا خدا ہند پر کرم فرما اس کی تکلیف کالعدم فرما ہیں پریشاں بہت حواس اس کے نہیں ہمدرد کوئی پاس اس کے فقر و فاقہ سے پائمال ہے اب قرض میں اس کا بال بال ہے اب نہ ہی صنعت نہ اب تجارت ہے ساری آسودگی وہ غارت ہے علم و فن سے ہے اس کا گھر خالی عقل و ادراک سے ہے سر خالی اچھے اطوار مٹ گئے اس کے نیک ...

مزید پڑھیے

فسانۂ عبرت

تعجب میں ہوں دیکھ کر رنگ عالم الٰہی یہ کیا آ گیا ہے زمانا نہ پہلی سی وہ مہر و الفت کی باتیں نہ اگلا سا چاہت کا وہ کارخانہ جدھر دیکھیے بس تعصب، جہالت جہاں جائیے صرف لڑنا لڑانا جو تعلیم دیتا ہے جنگ و جدل کی وہ ہے انتہائی خرد مند و دانا جو تلقین کرتا ہے صلح و صفا کی وہ ہے تیر زجر و جفا ...

مزید پڑھیے

کھوئے ہوئے زمانے

کیوں یاد آ رہے ہیں بھولے ہوئے فسانے گزری ہوئی بہاریں کھوئے ہوئے زمانے یا ایک برگ گل کو آنکھیں ترس رہی ہیں یا اپنے دامنوں میں پھولوں کے تھے خزانے یا آج خاک و صرصر ہیں ان کی وجہ زینت یا تھے یہی گلستاں کل تک نگار خانے یا آج خار و خس بھی ہم کو نہیں میسر یا تھے کبھی گلوں کے جھرمٹ میں ...

مزید پڑھیے

احساس غیرت

ہم کسی خوف میں ہرگز نہیں آنے والے کہہ دو اب ہم کو ڈرائیں نہ ڈرانے والے ہم میں خود داری و غیرت کی کمی تھی جب تک ڈھا چکے ہم پہ ستم خوب سے ڈھانے والے مٹ لئے ہم میں نہ تھا جب تلک احساس اس کا اب ذرا ہوش کی لیں ہم کو مٹانے والے ہو گئی ہم کو اب اپنی غلطی پر تنبیہ اب ہم اغیار کے دم میں نہیں ...

مزید پڑھیے

اچھے دن

بدلیں پھر رخ اپنا ہوائیں رنج کے بادل پھر چھٹ جائیں خوشیاں اپنا رنگ جمائیں عیش سے ہوں معمور فضائیں راس آئیں یا رب یہ دعائیں ملک کے پھر اچھے دن آئیں پھر گل زار بنیں ویرانے پھر ہوں وہی رنگیں افسانے پھر آ جائیں اگلے زمانے پھر ہوں وہی پر کیف ترانے پھر ہوں وہی دلچسپ صدائیں ملک کے پھر ...

مزید پڑھیے

بڑھے چلو

اٹھو اٹھو اٹھو اٹھو کمر کسو کمر کسو سحر سے پہلے چل پڑو کڑی ہے راہ دوستو تھکن کا نام بھی نہ لو بڑھے چلو بڑھے چلو جھجھک نہ دل میں لاؤ تم بس اب قدم اٹھاؤ تم ذرا نہ ڈگمگاؤ تم خدا سے لو لگاؤ تم ملول و مضطرب نہ ہو بڑھے چلو بڑھے چلو اٹھا دیا قدم اگر تو ختم ہے بس اب سفر ہے راہ صاف و بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5521 سے 6203