قومی زبان

لہو لہان سا منظر ہماری آنکھ میں ہے

لہو لہان سا منظر ہماری آنکھ میں ہے ہمارا جلتا ہوا گھر ہماری آنکھ میں ہے فساد میں جو تباہی ہوئی ہمارے یہاں اسی کا آج بھی اک ڈر ہماری آنکھ میں ہے ہماری سمت اچھالا گیا تھا جو اک دن لہو سے سرخ وہ پتھر ہماری آنکھ میں ہے نظام ہند کا بگڑا ہے جب سے اے احسنؔ تبھی سے سرخ سمندر ہماری آنکھ ...

مزید پڑھیے

خوف جاں آس پاس رہتا ہے

خوف جاں آس پاس رہتا ہے دل یوں ہی کب اداس رہتا ہے دیکھ کر اب لہو کی ارزانی ہر کوئی بد حواس رہتا ہے سارے انساں بچھڑ گئے تو کیا میرا غم میرے پاس رہتا ہے جب سے دل کو دیئے ہیں اس نے زخم کرب و غم آس پاس رہتا ہے آدمی جا بسے گا سورج پر ایسا بھی کیا قیاس رہتا ہے خوف دریا اسے نہیں ہوتا جو ...

مزید پڑھیے

عجیب کرب سا ہے زندگی کے چہرے پر

عجیب کرب سا ہے زندگی کے چہرے پر اندھیرا جیسے کسی روشنی کے چہرے پر یقین کیسے کروں میں تمہاری باتوں کا کہ قطرے اشک کے ہیں شعلگی کے چہرے پر چھپا ملا مجھے غم کی سیاہ راتوں میں جسے میں ڈھونڈ رہا ہوں خوشی کے چہرے پر زمانے بھر میں ہوئے حادثے جو روز و شب نمایاں ہیں وہ مری شاعری کے چہرے ...

مزید پڑھیے

بے چین دل ہے پھر بھی چہرے پہ دل کشی ہے

بے چین دل ہے پھر بھی چہرے پہ دل کشی ہے مفلس کی زندگی میں جو کچھ ہے قدرتی ہے احساس کا پرندہ جاگا ہے میرے اندر اس کی عطا سے خوش ہوں دل محو بندگی ہے صحراؤں سے تو پیاسے لوٹے نہیں کبھی ہم دریا کے بیچ میں ہیں تو پیاس لگ رہی ہے ہم سوچتے ہیں اکثر کیوں حشر سا ہے برپا جذبوں میں ہے طراوت ...

مزید پڑھیے

ایک رنگین خواب ہے دنیا

ایک رنگین خواب ہے دنیا یا نشاط سراب ہے دنیا غور سے پڑھ سکو تو سمجھو گے ایک دل کش کتاب ہے دنیا الجھنوں نے یہ کر دیا ثابت اک مسلسل عذاب ہے دنیا بھائی بھائی کا خون کرتا ہے سوچو کتنی خراب ہے دنیا ہے سزا ہی سزا ہمارے لئے کس قدر پر عتاب ہے دنیا دل لگاؤ نہ اس سے اے احسنؔ ایک بے فیض ...

مزید پڑھیے

ہوتا ہے دن رات یہاں اب جھگڑا بھائی بھائی میں

ہوتا ہے دن رات یہاں اب جھگڑا بھائی بھائی میں روز ہی اٹھتی ہیں دیواریں ہر گھر کی انگنائی میں شاعر وہ جو فکر کی گہرائی سے گوہر لے آئے اس کوشش میں جانے کتنے لوگ گرے اس کھائی میں فٹ پاتھوں پر رہنے والے تھر تھر کانپتے رہتے ہیں دولت والے سوتے ہیں جب کمبل اور رضائی میں اب تو خود ہی ...

مزید پڑھیے

مجھ کو خوشیاں نہ سہی غم کی کہانی دے دے

مجھ کو خوشیاں نہ سہی غم کی کہانی دے دے جس کو میں بھول نہ پاؤں وہ نشانی دے دے مجھ کو بوڑھا نہ کہے میرے زمانے والا اے خدا مجھ کو وہ اعجاز جوانی دے دے رات بھر جاگتا رہتا ہوں کہ جینا ہے عذاب آنکھیں جو چاہتی ہیں نیند سہانی دے دے سن کے غزلوں کو مری جھوم اٹھے ہر کوئی مرے اشعار کو وہ حسن ...

مزید پڑھیے

خیال وہ بھی مرے ذہن کے مکان میں تھا

خیال وہ بھی مرے ذہن کے مکان میں تھا جو آج تک نہ مکین گماں کے دھیان میں تھا وہ دیکھتا رہا حسرت سے آسماں کی طرف چھپا ہوا وہ پرندہ جو سائبان میں تھا زمیں پہ کوئی سماعت تھی منتظر میری صدا کی شکل معلق میں آسمان میں تھا مرا نصیب تو خوشیوں کی بھیڑ میں اکثر چراغ کی طرح روشن کسی دکان میں ...

مزید پڑھیے

عصر حاضر کا جو انسان نظر آتا ہے

عصر حاضر کا جو انسان نظر آتا ہے بس پریشان پریشان نظر آتا ہے نفرت‌ و بغض کی مسموم ہوا ایسی چلی کوچۂ جاناں بھی ویران نظر آتا ہے مری ہستی کی عمارت بھی گرا سکتا ہے اس کی آنکھوں میں جو طوفان نظر آتا ہے زندہ انسان بھی جلتے ہیں چتاؤں میں جہاں ملک یہ ایسا ہی شمشان نظر آتا ہے حادثہ ...

مزید پڑھیے

پرندوں کو دھوکہ نہ دو

وہ مرطوب جھونکا جو بارش کا اعلان نامہ ہے گر آج پھر آئے تو یہ بتاؤں کہ وہ بستیاں جن میں حرف و صدا کے پرندے تو اگر تھے اجڑے مکاں ہیں جہاں صرف وحشی ہوائیں ہی پھنکارتی ہیں سبز ملبوس پہنے ہوئے پیڑ عریاں ہیں اور ان کے نیچے فقط چند نقطے جنہیں سایہ کہنا بھی سائے کی توہین ہے زرد پتوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5519 سے 6203