وہ کم نصیب جو عہد جفا میں رہتے ہیں
وہ کم نصیب جو عہد جفا میں رہتے ہیں عجیب معرض کرب و بلا میں رہتے ہیں نمود ذوق و بلوغ ہنر کا ذکر ہی کیا یہاں یہ لوگ تو آہ و بکا میں رہتے ہیں وداع خلد کے بعد عرصۂ فراق میں ہیں بہ قید جسم دیار فنا میں رہتے ہیں وہ صبح و شام مری روح میں ہیں جلوہ نما دل فگار و الم آشنا میں رہتے ہیں حصار ...