قومی زبان

وہ کم نصیب جو عہد جفا میں رہتے ہیں

وہ کم نصیب جو عہد جفا میں رہتے ہیں عجیب معرض کرب و بلا میں رہتے ہیں نمود ذوق و بلوغ ہنر کا ذکر ہی کیا یہاں یہ لوگ تو آہ و بکا میں رہتے ہیں وداع خلد کے بعد عرصۂ فراق میں ہیں بہ قید جسم دیار فنا میں رہتے ہیں وہ صبح و شام مری روح میں ہیں جلوہ نما دل فگار و الم آشنا میں رہتے ہیں حصار ...

مزید پڑھیے

دن ڈھلا شب ہوئی چراغ جلے

دن ڈھلا شب ہوئی چراغ جلے بزم رنداں میں پھر ایاغ جلے دفعتاً آندھیوں نے رخ بدلا ناگہاں آرزو کے باغ جلے آس ڈوبی تو دل ہوا روشن بجھ گیا دل تو دل کے داغ جلے جل بجھے جستجو کے پروانے مستقل منزل سراغ جلے گاہ مصروفیت سلگ اٹھے گاہ تنہائی و فراغ جلے آنکھیں کرتی ہیں شبنم افشانی جب تری ...

مزید پڑھیے

مجھے علم آیا نہ انہیں عقل

اکبرکے مشہور ہوجانے پر بہت سے لوگوں نے ان کی شاگردی کا دعوی کردیا ۔ ایک صاحب کو دور کی سوجھی ۔ انہوں نے خود کو اکبر کا استاد مشہور کردیا ۔ اکبر کو جب یہ اطلاع پہنچی کہ حیدرآباد میں ان کے ایک استاد کا ظہور ہوا ہے ، تو کہنے لگے ،’’ہاں مولوی صاحب کا ارشاد سچ ہے ۔ مجھے یاد پڑتا ہے ...

مزید پڑھیے

جان من تم تو خود پٹاخہ ہو

ایک دن اکبر الہ آبادی سے ان کے ایک دوست ملنے آئے ۔اکبرؔ نے پوچھا: ’’کہئے آج ادھر کیسے بھول پڑے۔‘‘ انہوں نے جواب دیا ،’’ آج شب برات ہے۔ لہذا آپ سے شبراتی لینے آیا ہوں ۔‘‘اس پر اکبر الہ آبادی نے برجستہ جواب دیا: تحفۂ شب رات تمہیں کیا دوں جان من تم تو خود پٹاخہ ہو

مزید پڑھیے

ہر چند کہ کوٹ بھی ہے پتلون بھی ہے

الہ آباد کے ایک ایٹ ہوم میں اکبر الہ آبادی بھی شریک ہوئے ۔ وہاں طرح طرح کے انگریزی لباس پہنے ہوئے ہندستانی جمع تھے ۔ ایک کالے صاحب بھی تھے۔ ان کو انگریزی لباس جچتا نہ تھا ۔ ان پر حضرت اکبر الہ آبادی نے پھبتی کسی ۔ ہر چند کہ کوٹ بھی ہے پتلون بھی ہے بنگلہ بھی ہے پاٹ بھی صابون بھی ...

مزید پڑھیے

کیسے سمجھے گا صدف کا وہ گہر سے رشتہ

کیسے سمجھے گا صدف کا وہ گہر سے رشتہ جو سمجھ پائے نہ آنکھوں کا نظر سے رشتہ معتبر سر ہی بنا لو تو بہت اچھا ہے کم ہی رہ پاتا ہے دستار کا سر سے رشتہ ہے غریبوں کا امیروں سے تعلق اتنا جتنا ہوتا ہے چراغوں کا سحر سے رشتہ بے اثر جب ہیں زبانیں تو کیا کیا جائے ورنہ رکھتی ہیں دعائیں بھی اثر ...

مزید پڑھیے

میں ترے لطف و کرم کا جب سے رس پینے لگا

میں ترے لطف و کرم کا جب سے رس پینے لگا بس تبھی سے کھل کے اپنی زندگی جینے لگا اے بلندی چاہنے والے بھٹک مت آ ادھر میرے شانوں کے سہارے عرش تک زینے لگا ہو خوشی کوئی بھی جا کر پڑ گئی تیرے گلے غم ہو کوئی بھی وہ آ کر بس مرے سینے لگا ہوک کتنی سوز کتنا ٹیس کتنی دل میں ہے اے متاع زخم تو اب ...

مزید پڑھیے

ہم اس سے عشق کا اظہار کر کے دیکھتے ہیں

ہم اس سے عشق کا اظہار کر کے دیکھتے ہیں کیا ہے جرم تو اقرار کر کے دیکھتے ہیں ہے عشق جنگ تو پھر جیت لیں چلو ہم لوگ ہے دریا آگ کا تو پار کر کے دیکھتے ہیں ہے کوہسار تو نہریں نکال دیں اس سے ہے ریگزار تو گلزار کر کے دیکھتے ہیں ہم اس کو دیکھنا چاہیں تو کس طرح دیکھیں سو اس کی یاد کو کردار ...

مزید پڑھیے

نظم خبروں کو کیا اور نہ لطیفے لکھے

نظم خبروں کو کیا اور نہ لطیفے لکھے میں نے اشعار میں جینے کے سلیقے لکھے مرتبے اہل سخن کے تمہیں طے کرنے ہیں کس نے حق بات کہی کس نے قصیدے لکھے سب کو تدبیر بھی کرنے کو وہی کہتا ہے اور ہیں سب کے مقدر بھی اسی کے لکھے شدت مہر سے دی اس کے غضب کو تشبیہ اس کی رحمت کو اگر فضل کے سائے ...

مزید پڑھیے

زندگی سے پاس لیکن حسن کے قصے سے دور

زندگی سے پاس لیکن حسن کے قصے سے دور ہم غزل رکھتے ہیں اپنی زلف کے سائے سے دور ہم سے جن کو انسیت ہے وہ کھنچے آ جائیں گے ان کو کیا نزدیک لائیں جو ہیں خود پہلے سے دور جانے کیسے کرب ابھرے میرے چہرے پر کہ جو وہ نگاہیں اپنی رکھتے ہیں مرے چہرے سے دور ایک لمحہ پیار کا جس کو ملے وہ سرخ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5421 سے 6203