قومی زبان

برق سے آشیاں کا رشتہ ہے

برق سے آشیاں کا رشتہ ہے عرش سے خاکداں کا رشتہ ہے میرے افسانۂ محبت سے آپ کی داستاں کا رشتہ ہے آج کل ہم جنوں پسندوں سے ہر نئے امتحاں کا رشتہ ہے اہل گلشن کی خستہ حالی سے سازش باغباں کا رشتہ ہے آپ مختار اور ہم مجبور سوچئے تو کہاں کا رشتہ ہے شیخ صاحب کا حور و غلماں سے صرف وہم و ...

مزید پڑھیے

عہد وفا کا قرض ادا کر دیا گیا

عہد وفا کا قرض ادا کر دیا گیا محرومیوں کا درد عطا کر دیا گیا پھولوں کے داغ ہائے فروزاں کو دیکھ کر ارزاں کچھ اور رنگ حنا کر دیا گیا وارفتگان شوق کا شکوہ سنے بغیر گلشن سپرد اہل جفا کر دیا گیا دل سے امنگ لب سے دعا چھین لی گئی کہنے کو قیدیوں کو رہا کر دیا گیا یک دو نفس بھی کار زیاں ...

مزید پڑھیے

جفا کی رسم ستم کا رواج بدلے گا

جفا کی رسم ستم کا رواج بدلے گا فقیہ شہر کا آخر مزاج بدلے گا میں جانتا ہوں بدلتی رتوں کی خوشبو سے ہوائے دشت ترا امتزاج بدلے گا جمود مرگ نمود اصل زندگی ہے تو پھر جو کل نہ بدلا یقیناً وہ آج بدلے گا خلوص و مہر و وفا خواب ہو گئے جیسے نہ جانے کب یہ نحوست کا راج بدلے گا نئے شعور کے ...

مزید پڑھیے

ملا جو کوئی یہاں رمز آشنا نہ مجھے

ملا جو کوئی یہاں رمز آشنا نہ مجھے وبال ہوش رہا حرف محرمانہ مجھے اداس پھرتی ہے شاداب وادیوں کی مہک ہے کائنات یہی کنج آشیانہ مجھے عدو کی سنگ زنی کی نہیں مجھے پروا ترے کرم کا میسر ہے شامیانہ مجھے کوئی علاج غم زندگی بتا واعظ سنے ہوئے جو فسانے ہیں پھر سنا نہ مجھے سبک سری میں زمین ...

مزید پڑھیے

دم عیسیٰ ید بیضا کے قرینے والے

دم عیسیٰ ید بیضا کے قرینے والے اب نہ منصور نہ سقراط سے پینے والے وہی کوفی وہی لشکر وہی پیمان وفا وہی آثار محرم کے مہینے والے دم نکلتا ہے نہ سر جھکتا ہے دیوانوں کا جانے کس آس پہ جیتے ہیں یہ جینے والے یہ جو ساحل کے مناظر ہیں جو آوازیں ہیں جا کے اس پار نہ پائیں گے سفینے والے ہم ...

مزید پڑھیے

اپنی قسمت میں غم عرصۂ ہجراں ہے تو کیا

اپنی قسمت میں غم عرصۂ ہجراں ہے تو کیا اشک منت کش گہوارۂ مژگاں ہے تو کیا حسن ارباب حقیقت کو ہے ناظورۂ حق شیخ جی آپ کو اندیشۂ ایماں ہے تو کیا وقت کے ساتھ فزوں ہوتا ہے احساس زیاں فہم و ادراک ہی غارت گر انساں ہے تو کیا بے محابانہ مسرت کے تعاقب میں نہ دوڑ دام نیرنگ پس سرحد امکاں ...

مزید پڑھیے

چھپے ہوئے ہیں سر راہ سو خطر خاموش

چھپے ہوئے ہیں سر راہ سو خطر خاموش چلے چلو میرے یاران ہم سفر خاموش فضائے قریہ طلسم سکوت میں گم صم سیاہ رات کے دامن میں بام و در خاموش ہمارے بعد اگر رستخیز ہو بھی تو کیا بساط وقت سے ہم تو گئے گزر خاموش بہ ایں نوازش موسم شگفت گل پہ نہ جا زبان حال سے گویا بہ چشم تر خاموش جو عرش جاہ ...

مزید پڑھیے

غیر کی بد گمانیوں پہ نہ جا

غیر کی بد گمانیوں پہ نہ جا بے حقیقت کہانیوں پہ نہ جا کھینچ لیتا ہے دامن احساس پھول کی بے زبانیوں پہ نہ جا اس کی غارت گری کو دھیان میں رکھ عقل کی پاسبانیوں پہ نہ جا صبر کی دوستی کو رکھ ملحوظ جبر کی حکمرانیوں پہ نہ جا خبث باطن کے زہر سے بھی بچ محض شیریں بیانیوں پہ نہ جا مستقل ...

مزید پڑھیے

عرفان و آگہی کے سزا وار ہم ہوئے

عرفان و آگہی کے سزا وار ہم ہوئے سویا پڑا تھا شہر کہ بیدار ہم ہوئے تا عمر انتظار سہی پر بروز حشر اچھا ہوا کہ تیرے طلب گار ہم ہوئے ہم پر وفائے عہد انا الحق بھی فرض تھا اس واسطے کہ محرم اسرار ہم ہوئے ٹھہرے گی ایک دن وہی معراج بندگی جو بات کہہ کے آج گنہ گار ہم ہوئے ہوتے گئے وہ خلق ...

مزید پڑھیے

تجھ سے اے زیست ہمیں جتنے حسیں خواب ملے

تجھ سے اے زیست ہمیں جتنے حسیں خواب ملے نقش بر آب کبھی صورت سیماب ملے ہم نے ہر موج حوادث کو کنارا سمجھا ہم کو ہر موج میں لپٹے ہوئے گرداب ملے گردش وقت نے گہنا دئے کتنے سورج صبح کی گود میں دم توڑتے مہتاب ملے جب بھی صدیوں کی فتوحات کو مڑ کر دیکھا خوں میں لتھڑے ہوئے تاریخ کے ابواب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5420 سے 6203