قومی زبان

ہم نشیں رات ہے تو رات بھی ڈھل جائے گی

ہم نشیں رات ہے تو رات بھی ڈھل جائے گی صبح دم صورت حالات بدل جائے گی حدت شوق سلامت ہے تو زنجیر جفا صورت شمع کسی روز پگھل جائے گی ان کا دم بھرتے ہو تو غم نہ کرو آخر کار ان پہ دم دینے کی حسرت بھی نکل جائے گی ہم صفیرو کبھی مٹتی ہے تمنائے بہار یہ کسی پھول کسی شعلے میں ڈھل جائے گی یہی ...

مزید پڑھیے

برش تیغ بھی ہے پھول کی مہکار بھی ہے

برش تیغ بھی ہے پھول کی مہکار بھی ہے وہ خموشی کہ جو صد موجب اظہار بھی ہے چھوڑیئے ان کے شب و روز کی روداد زبوں آپ کو خاک نشینوں سے سروکار بھی ہے مصلحت مجھ کو بھی ملحوظ ہے اے ہم سخنو پر مرے پیش نظر وقت کی رفتار بھی ہے موت کے خوف سے ہر سانس رکی جاتی ہے زندگی آج کوئی تیرا خریدار بھی ...

مزید پڑھیے

جب بہ فیضان جنوں پرچم زر کھلتے ہیں

جب بہ فیضان جنوں پرچم زر کھلتے ہیں قفل شب توڑ کے انوار سحر کھلتے ہیں یوں ابھرتی ہے دل تار میں امید کی ضو جیسے زنداں کے کبھی روزن و در کھلتے ہیں غم سے ملتا ہے مری فکر کو اس طرح فراغ جس طرح طائر پر بستہ کے پر کھلتے ہیں ابر برسے تو بیاباں میں مہکتی ہے بہار لاکھ مے خانے سر راہ گزر ...

مزید پڑھیے

آنکھ دریا جگر لہو کرنا

آنکھ دریا جگر لہو کرنا کتنا مشکل ہے آرزو کرنا تجزیہ دل نشیں خیالوں کا ہے غزالوں کی جستجو کرنا تذکرہ ان کی دل نوازی کا اور پھر میرے روبرو کرنا بس یہی ایک شغل تنہائی رہ گیا خود سے گفتگو کرنا کشتگان الم سے سیکھا ہے درد مندوں کی آبرو کرنا دوستوں کے کرم سے چھوڑ دیا ہم نے اندیشۂ ...

مزید پڑھیے

جاں رہے یا نہ رہے نام رہے

جاں رہے یا نہ رہے نام رہے ساتھیو رسم جنوں عام رہے بارہا سعیٔ طلب کی ہم نے یہ الگ بات کہ ناکام رہے عظمت عشق سے ناواقف تھے جو اسیر ہوس خام رہے کیا تعجب ہے کہ پیران حرم مر کے بھی طالب اصنام رہے کیا خبر ہے کہ یوں ہی اے اخترؔ تا بہ کے گردش ایام رہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5422 سے 6203