قومی زبان

دھوپ میں جلتے ہیں تب سایہ بنتا ہے

دھوپ میں جلتے ہیں تب سایہ بنتا ہے بڑے جتن سے کوئی اپنا بنتا ہے سارے بکھرے خواب اکٹھا کرنے پر ایک مکمل تیرا چہرہ بنتا ہے گھر کے دونوں جانب در لگوائے ہیں اب تو تیرا دستک دینا بنتا ہے پیار کرو تو ایک خرابی یہ بھی ہے حد درجے کا یار تماشا بنتا ہے اس کا پہلو صرف میسر ہے مجھ کو یعنی ...

مزید پڑھیے

بہت مشکل ہوا رستہ ہمارا

بہت مشکل ہوا رستہ ہمارا جب اس نے کھو دیا نقشہ ہمارا ملا جب روشنی سے مدتوں بعد لپٹ کر رو پڑا سایہ ہمارا بہت محدود ہے دنیا ہماری نہیں نبھ پائے گا رشتہ ہمارا اگرچہ کوئی بھی آتا نہیں تھا کھلا رہتا تھا دروازہ ہمارا نہیں اس میں محبت کے سوا کچھ بہت ہے مختصر قصہ ہمارا ہماری کوئی ...

مزید پڑھیے

غم اٹھانے کا حوصلہ بھی نہیں

غم اٹھانے کا حوصلہ بھی نہیں اور اس کے بنا مزہ بھی نہیں ساتھ تیرا عذاب ہے مجھ کو چاہیے کوئی دوسرا بھی نہیں تم بھلا کیوں اداس رہنے لگے تم کو تو یار عشق تھا بھی نہیں عشق کی راہ سے گزرنا پڑا اور تھا کوئی راستہ بھی نہیں ان کو دراصل دور جانا تھا مسئلہ اتنا تھا بڑا بھی نہیں خود سمجھ ...

مزید پڑھیے

جھوٹ کا بولنا آسان نہیں ہوتا ہے

جھوٹ کا بولنا آسان نہیں ہوتا ہے دل ترے بعد پریشان نہیں ہوتا ہے سب ترے بعد یہی پوچھتے رہتے ہیں مجھے اب کسی بات پہ حیران نہیں ہوتا ہے کیسے تم بھول گئے ہو مجھے آسانی سے عشق میں کچھ بھی تو آسان نہیں ہوتا ہے ہجر کا ذائقہ لیجے ذرا دھیرے دھیرے سب کی تھالی میں یہ پکوان نہیں ہوتا ...

مزید پڑھیے

عشق کے ٹوٹے ہوئے رشتوں کا ماتم کیا کریں

عشق کے ٹوٹے ہوئے رشتوں کا ماتم کیا کریں زندگی آ تجھ سے پھر اک بار سمجھوتا کریں زندگی کب تک ترے درماندگان آرزو خواب دیکھیں اور تعبیروں کو شرمندہ کریں مڑ کے دیکھا اور پتھر کے ہوئے اس شہر میں خود صدا بن جاؤ آوازیں اگر پیچھا کریں ناامیدانہ بھی جینے کا سلیقہ ہے ہمیں آئنے ٹوٹے ...

مزید پڑھیے

موج شمیم ہیں نہ خرام صبا ہیں ہم

موج شمیم ہیں نہ خرام صبا ہیں ہم ٹھہری ہوئی گلوں کے لبوں پر دعا ہیں ہم بیگانہ خلق سے ہیں نہ تجھ سے خفا ہیں ہم اے زندگی معاف کہ دیر آشنا ہیں ہم اس راز کو بھی فاش کر اے چشم دل نواز کانٹا کھٹک رہا ہے یہ دل میں کہ کیا ہیں ہم یا رب ترا کمال ہنر ہم پہ ختم ہے یا صرف مشق ناز کا اک تجربہ ہیں ...

مزید پڑھیے

سن رہا ہوں بے صدا نغمہ جو میں با چشم تر

سن رہا ہوں بے صدا نغمہ جو میں با چشم تر چپکے چپکے زندگی ہنستی ہے میرے حال پر اپنی ساری عمر کھو کر میں نے پایا ہے تمہیں آؤ میرے غم کے سناٹو مرے نزدیک تر ایک دل تھا سو ہوا ہے پائمال آرزو اب نہ کوئی رہنما ہے اور نہ کوئی ہم سفر ہر قدم پر پوچھتا ہوں پاؤں کے چھالوں سے میں یہ مری منزل ہے ...

مزید پڑھیے

یہ ہم سے پوچھتے ہو رنج امتحاں کیا ہے

یہ ہم سے پوچھتے ہو رنج امتحاں کیا ہے تمہیں کہو صلۂ خون کشتگاں کیا ہے اسیر بند خزاں ہوں نہ پوچھ اے صیاد خرام کیا ہے صبا کیا ہے گلستاں کیا ہے ہوئی ہے عمر کہ دل کو نظر سے ربط نہیں مگر یہ سلسلۂ چشم خوں فشاں کیا ہے نظر اٹھے تو نہ سمجھوں جھکے تو کیا سمجھوں سکوت ناز یہ پیرایۂ بیاں کیا ...

مزید پڑھیے

میں نے مانا ایک نہ اک دن لوٹ کے تو آ جائے گا

میں نے مانا ایک نہ اک دن لوٹ کے تو آ جائے گا لیکن تجھ بن عمر جو گزری کون اسے لوٹائے گا ہجر کے صدمے اس کا تغافل باتیں ہیں سب کہنے کی کچھ بھی نہ مجھ کو یاد رہے گا جب وہ گلے لگ جائے گا خواب وفا آنکھوں میں بسائے پھرتا ہے کیا دیوانے تعبیریں پتھراؤ کریں گی جب تو خواب سنائے گا کتنی ...

مزید پڑھیے

مدت سے لاپتہ ہے خدا جانے کیا ہوا

مدت سے لاپتہ ہے خدا جانے کیا ہوا پھرتا تھا ایک شخص تمہیں پوچھتا ہوا وہ زندگی تھی آپ تھے یا کوئی خواب تھا جو کچھ تھا ایک لمحے کو بس سامنا ہوا ہم نے ترے بغیر بھی جی کر دکھا دیا اب یہ سوال کیا ہے کہ پھر دل کا کیا ہوا سو بھی وہ تو نہ دیکھ سکی اے ہوائے دہر سینے میں اک چراغ رکھا تھا جلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5409 سے 6203