قومی زبان

یہ اندھیرا جو عیاں صبح کی تنویر میں ہے

یہ اندھیرا جو عیاں صبح کی تنویر میں ہے کچھ کمی خون جگر کی ابھی تصویر میں ہے اہل تقدیر نے سر رکھ دیا جس کے آگے آج وہ عقدہ مرے ناخن تدبیر میں ہے رنگ گل رنگ بتاں رنگ جبین محنت جو حسیں رنگ ہے شامل مری تصویر میں ہے میں نے جس خواب کو آنکھوں میں بسا رکھا ہے تو بھی ظالم مرے اس خواب کی ...

مزید پڑھیے

کبھی زباں پہ نہ آیا کہ آرزو کیا ہے

کبھی زباں پہ نہ آیا کہ آرزو کیا ہے غریب دل پہ عجب حسرتوں کا سایا ہے صبا نے جاگتی آنکھوں کو چوم چوم لیا نہ جانے آخر شب انتظار کس کا ہے یہ کس کی جلوہ گری کائنات ہے میری کہ خاک ہو کے بھی دل شعلۂ تمنا ہے تری نظر کی بہار آفرینیاں تسلیم مگر یہ دل میں جو کانٹا سا اک کھٹکتا ہے جہان فکر و ...

مزید پڑھیے

کہیں کس سے ہمارا کھو گیا کیا

کہیں کس سے ہمارا کھو گیا کیا کسی کو کیا کہ ہم کو ہو گیا کیا کھلی آنکھوں نظر آتا نہیں کچھ ہر اک سے پوچھتا ہوں وو گیا کیا مجھے ہر بات پر جھٹلا رہی ہے یہ تجھ بن زندگی کو ہو گیا کیا اداسی راہ کی کچھ کہہ رہی ہے مسافر راستے میں کھو گیا کیا یہ بستی اس قدر سنسان کب تھی دل شوریدہ تھک کر ...

مزید پڑھیے

نگاہیں منتظر ہیں کس کی دل کو جستجو کیا ہے

نگاہیں منتظر ہیں کس کی دل کو جستجو کیا ہے مجھے خود بھی نہیں معلوم میری آرزو کیا ہے بدلتی جا رہی ہے کروٹوں پر کروٹیں دنیا کسی صورت نہیں کھلتا جہان رنگ و بو کیا ہے یہ سوچا دل کو نذر آرزو کرتے ہوئے ہم نے نگاہ حسن خود آرا میں دل کی آبرو کیا ہے مجھے اب دیکھتی ہے زندگی یوں بے ...

مزید پڑھیے

دیدنی ہے زخم دل اور آپ سے پردا بھی کیا

دیدنی ہے زخم دل اور آپ سے پردا بھی کیا اک ذرا نزدیک آ کر دیکھیے ایسا بھی کیا ہم بھی ناواقف نہیں آداب محفل سے مگر چیخ اٹھیں خاموشیاں تک ایسا سناٹا بھی کیا خود ہمیں جب دست قاتل کو دعا دیتے رہے پھر کوئی اپنی ستم گاری پہ شرماتا بھی کیا جتنے آئینے تھے سب ٹوٹے ہوئے تھے سامنے شیشہ گر ...

مزید پڑھیے

یاد آئیں جو ایام بہاراں تو کدھر جائیں

یاد آئیں جو ایام بہاراں تو کدھر جائیں یہ تو کوئی چارہ نہیں سر پھوڑ کے مر جائیں قدموں کے نشاں ہیں نہ کوئی میل کا پتھر اس راہ سے اب جن کو گزرنا ہے گزر جائیں رسمیں ہی بدل دی ہیں زمانے نے دلوں کی کس وضع سے اس بزم میں اے دیدۂ تر جائیں جاں دینے کے دعوے ہوں کہ پیمان وفا ہو جی میں تو یہ ...

مزید پڑھیے

لب سکوت پہ اک حرف بے نوا بھی نہیں

لب سکوت پہ اک حرف بے نوا بھی نہیں وہ رات ہے کہ کسی کو سر دعا بھی نہیں خموش رہیے تو کیا کیا صدائیں آتی ہیں پکاریے تو کوئی مڑ کے دیکھتا بھی نہیں جو دیکھیے تو جلو میں ہیں مہر و ماہ و نجوم جو سوچیے تو سفر کی یہ ابتدا بھی نہیں قدم ہزار جہت آشنا سہی لیکن گزر گیا ہوں جدھر سے وہ راستہ ...

مزید پڑھیے

تم سے چھٹ کر زندگی کا نقش پا ملتا نہیں

تم سے چھٹ کر زندگی کا نقش پا ملتا نہیں پھر رہا ہوں کو بہ کو اپنا پتا ملتا نہیں میں ہوں یا پھرتا ہے کوئی اور میرے بھیس میں کس سے پوچھوں کوئی صورت آشنا ملتا نہیں نقش حیرت ہی نہ تھا پرسان حال غم بھی تھا تم نے جو توڑا ہے اب وہ آئینا ملتا نہیں ناامیدی حرف تہمت ہی سہی کیا کیجئے تم قریب ...

مزید پڑھیے

نیرنگیٔ نشاط تمنا عجیب ہے

نیرنگیٔ نشاط تمنا عجیب ہے کچھ شام سے قفس میں اجالا عجیب ہے شرما رہے ہیں تار گریبان و چاک دل کچھ دن سے رنگ لالۂ صحرا عجیب ہے ہر خواب اعتبار شکستوں سے چور ہے دل میں مگر غرور تمنا عجیب ہے سارا بدن ہے دھوپ میں جھلسا ہوا مگر دل پر جو پڑ رہا ہے وہ سایہ عجیب ہے پھینکے نہیں ہیں آج تلک ...

مزید پڑھیے

پھرتی ہے زندگی جنازہ بہ دوش

پھرتی ہے زندگی جنازہ بہ دوش بت بھی چپ ہیں خدا بھی ہے خاموش کوئی میری طرح جئے تو سہی زندگی در گلو اجل بر دوش دیدنی تھی یہ کائنات بہت ہم بھی کچھ دن رہے خراب ہوش گھر سے طوف حرم کو نکلا تھا راہ میں تھی دکان بادہ فروش اک تعلق قدم کو راہ سے ہے میں نہ آوارہ ہوں نہ خانہ بدوش ہم سے غافل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5410 سے 6203